پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان قرض پروگرام کے تحت اقتصادی جائزہ مذاکرات کا نیا مرحلہ شروع ہوگیا ہے، جس کے لیے آئی ایم ایف مشن پاکستان پہنچ گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اسٹیٹ بینک حکام کے ساتھ معاشی صورتحال اور اہم مالیاتی اہداف کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ابتدائی تکنیکی مذاکرات میں کرنٹ اکاؤنٹ، شرح سود، شرح تبادلہ اور دیگر اہم معاشی معاملات پر بات چیت ہوگی۔
اسٹیٹ بینک حکام آئی ایم ایف وفد کو ملکی معاشی صورتحال، حالیہ کارکردگی اور مالیاتی شعبے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔
مذاکرات میں زرمبادلہ کے ذخائر، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، بیرونی مالیاتی ذرائع اور یورو بانڈ کے اجرا سے متعلق پیش رفت بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 11 ستمبر 2026 کو پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 26.79 ارب ڈالر تھے، جن میں مرکزی بینک کے ذخائر تقریباً 21.39 ارب ڈالر شامل تھے۔
اسٹیٹ بینک حکام کے ساتھ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد آئی ایم ایف وفد 25 ستمبر کو اسلام آباد منتقل ہوگا، جہاں وزارت خزانہ، نجکاری، توانائی اور ایف بی آر حکام کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں گے۔
قرض پروگرام کے جائزے کے دوران جون تک کی معاشی سرگرمیوں اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ اصلاحاتی پروگرام کے تحت مقرر کیے گئے اہداف پر بھی تفصیلی گفتگو ہوگی۔
مذاکرات میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بجلی اور گیس کے سرکلر قرضے سمیت مختلف ساختی اہداف پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
آئی ایم ایف کے پروگرام شیڈول کے مطابق ستمبر 2026 میں جون 2026 تک کی کارکردگی سے متعلق اگلے جائزے کا مرحلہ مقرر تھا۔