حافظ نعیم کا لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان، احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ
ملتان: وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب جاری لانگ مارچ کو اکتوبر کے پہلے ہفتے تک مؤخر کرنے کا اعلان کردیا ہے، تاہم امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے واضح کیا ہے کہ احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں گی اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ برقرار رہے گا۔
ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے بنیادی مسائل پر بات کررہی ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔ ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے بتایا کہ حکومت سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے مطالبے پر متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں اور جماعت اسلامی نے حکومت کو تحریری طور پر بھی اپنا مطالبہ پیش کیا، تاہم ان کے بقول اس حوالے سے مثبت جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کراچی سے روہڑی اور پھر روہڑی سے ملتان تک ٹرین مارچ کیا ہے اور عوامی مسائل کے لیے احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف پیکیج جماعت اسلامی کے مطالبات کے مطابق کافی نہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے درخواست کی کہ لانگ مارچ مؤخر کردیا جائے، جس پر جماعت اسلامی نے مارچ کو اکتوبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مطلب احتجاجی تحریک سے دستبرداری نہیں ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کے مطابق دھرنے اور دیگر احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں گی، جبکہ وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد ان سے ملاقات اور مذاکرات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو مزید ریلیف دینے کے لیے عملی اور تحریری یقین دہانی درکار ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا ایجنڈا تصادم یا فساد نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانا ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے مطالبات پر پیش رفت کی تو معاملہ مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا، تاہم ریلیف نہ ملنے کی صورت میں لانگ مارچ دوبارہ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس سے قبل حافظ نعیم الرحمٰن سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے مارچ کچھ دن مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی اور وطن واپسی پر پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر نتیجہ خیز مذاکرات اور مزید عوامی ریلیف کی یقین دہانی کرائی تھی۔