پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ احتجاج اور مارچ کرنا ان کی جماعت کا آئینی و جمہوری حق ہے، تاہم پی ٹی آئی کے ارکان اور رہنماؤں کی گرفتاریوں کے باوجود پارٹی پُرامن احتجاج کے مؤقف پر قائم ہے۔
پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف ایک جمہوری جماعت ہے، ہم پُرامن ہیں اور پُرامن رہیں گے، لیکن اسی وجہ سے ہمیں سزا دی جارہی ہے۔ ان کے مطابق ریاست کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنا چاہیے اور ملک کے حالات کو مزید کشیدگی کی طرف نہیں لے جانا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے پانچ ارکان قومی اسمبلی اور خیبرپختونخوا کا ایک صوبائی وزیر گرفتار ہیں۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت تحریک انصاف کی ہے، تاہم ان کے بقول وہاں بھی اختیارات کے حوالے سے مسائل موجود ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور میں 12 لانگ مارچ ہوئے اور کسی کا راستہ نہیں روکا گیا، جبکہ گزشتہ دو برس سے ان کی جماعت کو لانگ مارچ کی اجازت نہیں دی جارہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ احتجاج کرنا کیا جمہوری اور آئینی حق نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد کو فتح کرنے یا کسی قسم کی چڑھائی کرنے نہیں جارہی بلکہ پُرامن احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پہنچنے پر آئین اور قانون کی بالادستی کو مقدم رکھا جائے گا اور قانون ہاتھ میں نہیں لیا جائے گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں دہشت گردوں کی طرح نمٹنے کی باتیں کی جارہی ہیں، تاہم ان کے بقول پی ٹی آئی سیاسی لوگ ہیں اور دہشت گردوں کے انداز میں اسلام آباد نہیں آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سے رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور وفاقی سطح پر رابطے جاری ہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پارٹی کے مطالبات میں عمران خان کے علاج، ان کے مقدمات کی سماعت اور ملاقات کی اجازت شامل ہے۔ ان کے مطابق سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنا ضروری ہے۔