اسلام آباد: جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے پانچویں دور کے بعد لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل عوامی ریلیف کے معاملے پر اہم پیش رفت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کو بڑا عوامی ریلیف پیکیج دینے کی پیشکش کی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد جماعت اسلامی کی تکنیکی کمیٹی کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کی قیادت کو وزیراعظم شہباز شریف کے معاملے پر آن بورڈ ہونے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ وزیراعظم کی وطن واپسی پر جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات متوقع ہے جبکہ وزیراعظم کی جانب سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے براہ راست رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی کے ذرائع کے مطابق اگر حکومت عوام کو ریلیف دینے کے معاملے میں سنجیدہ اقدامات کرتی ہے تو لانگ مارچ میں عارضی وقفہ کیا جا سکتا ہے، تاہم پٹرولیم لیوی کے حتمی خاتمے تک احتجاجی تحریک ختم نہیں کی جائے گی۔
حکومتی وفد کے ایک رکن نے مذاکرات کے دوران کہا کہ جماعت اسلامی عوام کی نمائندہ جماعت ہے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے کسی بھی اقدام پر خوشی محسوس ہوگی۔
تاہم 19 ستمبر کو ہونے والے پانچویں دور کے مذاکرات کے بعد جماعت اسلامی کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک لانگ مارچ جاری رہے گا اور حکومت نے اس مرحلے پر کوئی حتمی معاہدہ نہیں کیا۔ حکومتی وفد نے سکیورٹی خدشات کے باعث لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔
جماعت اسلامی نے 20 ستمبر سے کراچی سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جماعت اسلامی کے مطابق اس تحریک کا بنیادی مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کرنا ہے۔