پاکستان کی برآمدات چند شعبوں تک محدود، عالمی منڈی میں حصہ صرف 0.12 فیصد
اسلام آباد: پاکستان کی برآمدی معیشت میں ٹیکسٹائل، چمڑے اور بعض زرعی مصنوعات کا نمایاں حصہ ہے، تاہم مجموعی برآمدات کا بڑا حصہ محدود مصنوعات پر انحصار کرتا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں ملک کی موجودگی اب بھی محدود ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان کی مجموعی برآمدات 30.67 ارب ڈالر رہیں، جبکہ اسی عرصے میں عالمی برآمدات 25.61 ٹریلین ڈالر تھیں۔ عالمی برآمدات میں پاکستان کا حصہ تقریباً 0.12 فیصد بنتا ہے۔
پاکستان کی نمایاں برآمدی مصنوعات میں بیڈ لینن، مردانہ ملبوسات اور چاول شامل ہیں۔ ان تینوں شعبوں سے حاصل ہونے والی برآمدی آمدن مجموعی برآمدات کا تقریباً ایک تہائی بنتی ہے، جس سے معیشت کو ان شعبوں میں کسی بڑے بیرونی یا عالمی منڈی کے جھٹکے کا سامنا ہونے کی صورت میں خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات میں پاکستان کی خصوصی برآمدی صلاحیت بھی سامنے آتی ہے، تاہم بعض بڑی عالمی منڈیوں میں پاکستان کی موجودگی نسبتاً کم ہے۔ اسی طرح زرعی شعبے میں چاول سمیت کئی خام یا کم پراسیس شدہ مصنوعات اہم برآمدی کردار ادا کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فارماسیوٹیکلز، الیکٹرانکس، مشینری، آٹو موبائلز اور پیٹروکیمیکلز جیسے بڑے عالمی شعبوں میں پاکستان کی برآمدی موجودگی محدود ہے۔
برآمدات میں پائیدار اضافے کے لیے موجودہ مضبوط شعبوں میں ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ، معیار کی بہتری اور نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ فارماسیوٹیکلز، پراسیسڈ فوڈز، کیمیکلز، پلاسٹکس اور دیگر مینوفیکچرنگ شعبوں میں برآمدی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے۔