کراچی: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں تیزی اور عالمی تجارتی و شپنگ سرگرمیوں سے متعلق خدشات نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو شدید دباؤ میں ڈال دیا، کاروباری سرگرمیوں کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت دیکھی گئی۔
کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2504.38 پوائنٹس کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد انڈیکس 168,007.47 پوائنٹس پر ٹریڈ کررہا ہے۔ مارکیٹ میں مسلسل فروخت کے دباؤ کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔
تازہ صورتحال میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا سب سے بڑا اثر عالمی توانائی کی منڈی پر پڑ رہا ہے۔ خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جاچکی ہیں، جبکہ سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی بندش اور خطے میں بحری راستوں کو لاحق خطرات نے عالمی سپلائی کے حوالے سے تشویش مزید بڑھا دی ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار رکھنے والے ملک کی معیشت پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ مہنگا تیل درآمدی بل، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، افراط زر اور کاروباری لاگت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، جس کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کار محتاط ہو جاتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی شپنگ بھی متاثر ہورہی ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں سے متعلق سیکیورٹی خدشات نے مال برداری اور انشورنس کے اخراجات میں اضافے کے خدشات پیدا کیے ہیں، جس سے عالمی تجارت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ دنوں کے دوران بھی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے KSE-100 انڈیکس ایک ہی روز میں 3,078 پوائنٹس سے زائد گر کر 168,865.04 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جبکہ اگلے روز مارکیٹ نے کچھ ریکوری کرتے ہوئے 1,646.81 پوائنٹس کا اضافہ کیا تھا۔
موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاروں کی توجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی تیل کی قیمتوں، بحری تجارت کی بحالی اور سفارتی کوششوں پر مرکوز ہے۔ عمان میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ اجلاس کا ملتوی ہونا بھی فوری سفارتی پیش رفت کے امکانات کے حوالے سے مارکیٹ کیلئے منفی اشارہ سمجھا جارہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی طویل ہوتی ہے اور توانائی کی سپلائی میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں تو عالمی منڈیوں کے ساتھ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ صورتحال میں بہتری آنے کی صورت میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں دوبارہ اضافہ ہوسکتا ہے۔