تازہ ترین

ہمیں ہمارا صوبہ دیں، ہم خود آرٹیکل 140-A نافذ کردیں گے: خالد مقبول

0

کراچی میں نئے صوبوں اور بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبے نے ایک بار پھر سیاسی بحث کو تیز کردیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ شہری سندھ کا مقدمہ مضبوط اور جائز ہے، ہمیں ہمارا صوبہ دے دیا جائے تو ہم خود آئین کے آرٹیکل 140-A کو نافذ کردیں گے۔

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے شعبہ گریجویٹ فورم کے زیر اہتمام قومی مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام ایم کیو ایم کے قیام سے بھی پہلے آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے دور سے ہمارا دیرینہ اور اصولی مطالبہ رہا ہے۔ پاکستان ہماری دھرتی ماں ہے جبکہ صوبے صرف انتظامی اکائیاں ہیں، جنہیں ملک کی ترقی اور انتظامی سہولت کے لیے آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں، جبکہ ایم کیو ایم انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا مطالبہ کرتی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں جہاں نئے صوبوں کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں، ان میں شہری سندھ کا مقدمہ سب سے مضبوط اور باجواز ہے، کیونکہ یہ خطہ ملکی معیشت کا بڑا بوجھ اٹھانے کے باوجود مسلسل استحصال اور حق تلفی کا شکار ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان کے لیے ہجرت کی تھی اور یہ ہمارے اسلاف کا بنایا ہوا پاکستان ہے، اس لیے اس کے مستقبل اور اپنے حقوق کے بارے میں فیصلہ ہم خود کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سندھ میں دیانت داری کے ساتھ شفاف مردم شماری کرائی جائے اور ووٹر فہرستوں کو درست کیا جائے تو پیپلزپارٹی خود نئے صوبے کے مطالبے پر مجبور ہوجائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں ہمارا صوبہ دے دیا جائے تو ہم خود آرٹیکل 140-A نافذ کردیں گے۔

ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ موجودہ چاروں صوبوں پر مخصوص خاندانوں کی حکمرانی قائم ہے اور موجودہ نظام جمود کا شکار ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات تو ملے لیکن یہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو آئینی طور پر بااختیار بنانے کے لیے آرٹیکل 140-A کے تحت آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں جمع کرایا جاچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی طریقہ کار کے تحت عوامی رائے بھی حاصل کی جانی چاہیے، جبکہ تمام مکاتب فکر کے افراد اپنے بقا اور ترقی کے لیے جلد شاہراہ فیصل پر ایک تاریخی ریلی میں شریک ہوں۔

سابق میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ایم کیو ایم مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور نئے صوبوں کے قیام کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کررہی ہے۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ سے بااختیار بلدیاتی نظام کا مقدمہ بھی جیتا جاچکا ہے اور یہ معاملہ سیاسی مفاد سے زیادہ شہریوں کی بقا اور انفرادی و اجتماعی ترقی سے متعلق ہے۔

رکن قومی اسمبلی جاوید حنیف نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا بل قائمہ کمیٹی میں موجود ہے۔ کراچی کے آبادیاتی مسائل اور انتظامی معاملات کے مؤثر حل کے لیے اسے الگ انتظامی حیثیت دینا ناگزیر ہوچکا ہے۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ موجودہ طرز حکمرانی میں صوبے مقامی حکومتوں کو مؤثر اختیارات دینے میں ناکام رہے ہیں، اس لیے کراچی سمیت تمام بڑے شہروں کا انتظام مقامی لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان حنیف، تاجر رہنما عتیق میر اور سابق بیوروکریٹ بیرسٹر شہاب امام نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ کراچی کا معاشی ڈھانچا شدید متاثر ہوچکا ہے، سرکاری اداروں میں مقامی افراد کی بھرتیوں پر پابندی اور غیر مقامی افراد کی تعیناتی سے احساس محرومی میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جانا ضروری ہے تاکہ شہریوں کو ان کے آئینی اور قانونی حقوق مل سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.