القاعدہ کے افغان اڈے دوبارہ فعال، ٹی ٹی پی کو تربیت دینے کا بھی انکشاف
نائن الیون حملوں کے 25 سال مکمل ہونے پر افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے حوالے سے بین الاقوامی تشویش کا مرکز بن گیا ہے۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد القاعدہ اور اس سے وابستہ گروہوں کے افغانستان میں دوبارہ منظم ہونے اور مختلف علاقوں میں اپنے ڈھانچے مضبوط کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران افغانستان میں القاعدہ اور اس سے منسلک گروہوں نے کم از کم 8 اڈے قائم کیے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ سے وابستہ ایک ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ القاعدہ اور اس کے اتحادی گروہوں نے افغانستان کے کم از کم 14 صوبوں میں اپنی موجودگی قائم کرلی ہے۔ افغانستان میں داعش خراسان کے تربیتی مراکز کی موجودگی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں ایسا سازگار ماحول پیدا ہوا جس نے القاعدہ کو اپنی تنظیمی صلاحیت مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا۔ مختلف علاقوں میں محفوظ رہائش گاہوں اور تربیتی مراکز کی موجودگی کی بھی اطلاعات ہیں۔
امریکی اور مغربی حکام کے مطابق افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کی موجودہ سرگرمیوں کا فوری مقصد ماضی کی طرح مغربی ممالک میں بڑے حملے کرنا دکھائی نہیں دیتا بلکہ ان کی توجہ زیادہ تر علاقائی تنازعات اور پڑوسی ممالک میں کارروائیوں پر مرکوز ہے۔ ماہرین کے مطابق طالبان بھی ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتے جن کے نتیجے میں افغانستان میں دوبارہ بڑے پیمانے پر غیر ملکی فوجی یا خفیہ کارروائیاں شروع ہوجائیں۔
اقوام متحدہ کی دہشتگرد گروہوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے رابطہ کار کولن اسمتھ کے اندازے کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کے بنیادی ڈھانچے سے وابستہ جنگجوؤں کی تعداد تقریباً 100 یا اس سے کم ہے، تاہم ان کا کردار صرف اپنے جنگجوؤں تک محدود نہیں رہا۔
کولن اسمتھ کے مطابق القاعدہ دیگر مسلح تنظیموں کو مشاورتی خدمات بھی فراہم کررہی ہے، جن میں خفیہ کارروائیوں، معلوماتی تحفظ اور دیگر عملی معاملات سے متعلق تربیت اور مشاورت شامل ہے۔
رپورٹ میں تحریک طالبان پاکستان کا بھی خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی 2024 کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود القاعدہ کے ارکان نے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو خودکش حملوں کے لیے تربیت فراہم کی۔ یہ معاملہ پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسلام آباد طویل عرصے سے افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں اور سرحد پار دہشتگرد سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔
افغانستان میں القاعدہ کے علاوہ داعش خراسان کی سرگرمیاں بھی عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہیں۔ رپورٹ کے مطابق داعش خراسان نے افغانستان کے شمالی علاقوں کو اپنی سرگرمیوں کے لیے اہم مرکز بنایا ہے۔ حکام اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق داعش خراسان نے تقریباً 2 ہزار ارکان بھرتی کیے ہیں اور افغانستان میں تربیت اور مستقبل کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے مختلف مراکز استعمال کررہی ہے۔
القاعدہ اور داعش خراسان ایک دوسرے کی شدید مخالف تنظیمیں ہیں اور عالمی شدت پسند تحریک پر اثر و رسوخ کے لیے ایک دوسرے کے مدِمقابل ہیں۔
افغانستان میں القاعدہ کی دوبارہ موجودگی کی اطلاعات اس لیے بھی اہم ہیں کہ 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی اور تیاری میں افغانستان میں موجود القاعدہ کے تربیتی مراکز نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ امریکی 9/11 کمیشن کے مطابق طیارے اغوا کرنے کا منصوبہ 1990 کی دہائی میں افغانستان میں القاعدہ کے ایک مرکز میں زیر بحث آیا تھا، جبکہ اسامہ بن لادن نے بعد میں قندھار کے قریب ایک مقام پر حملوں کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔
نائن الیون حملوں میں ملوث تمام 19 طیارہ اغوا کاروں نے بھی حملوں سے قبل افغانستان میں موجود القاعدہ کے تربیتی مراکز یا محفوظ رہائش گاہوں میں وقت گزارا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ اور دیگر سکیورٹی حکام نے ان دعوؤں کی بھی تحقیقات کیں کہ القاعدہ قندھار ایئرپورٹ کے قریب واقع ترناک فارمز میں دوبارہ سرگرمیاں شروع کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ وہی مرکز ہے جس کا ماضی میں اسامہ بن لادن سے تعلق بتایا جاتا رہا ہے، تاہم سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے میں وہاں القاعدہ کی دوبارہ سرگرمی کے واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔
نئے تربیتی مراکز میں روایتی جنگی تربیت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہتھیاروں، دھماکا خیز مواد اور گوریلا جنگ کی تکنیکوں کے علاوہ خفیہ رابطہ کاری، ڈرونز اور مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتیں بھی سکھائی جارہی ہیں۔
2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد دہشتگرد گروہوں کی نگرانی کے لیے امریکی خفیہ معلومات جمع کرنے کی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ امریکی اور دیگر سکیورٹی حکام کے مطابق واشنگٹن کو اپنی خفیہ معلومات اور سکیورٹی ترجیحات کا ایک بڑا حصہ ایران اور دیگر عالمی بحرانوں کی جانب منتقل کرنا پڑا۔
تاہم 2022 میں کابل میں امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت سے ظاہر ہوا کہ امریکہ اب بھی افغانستان میں محدود خفیہ معلوماتی نیٹ ورک اور دور مار کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق القاعدہ کی قیادت اس وقت مصری نژاد سیف العدل کے پاس ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایران میں روپوش ہیں۔ ان کی موجودہ جغرافیائی صورتحال اور افغانستان میں القاعدہ کے محدود مگر منظم ڈھانچے کے درمیان تعلق بھی عالمی خفیہ اداروں کی توجہ کا اہم موضوع ہے۔
افغانستان میں غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد بھی ماضی کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگئی ہے۔ نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں سفری نگرانی، سرحدی سکیورٹی اور خفیہ معلومات کے نظام کو مضبوط کیا گیا، جس کے باعث القاعدہ اور داعش کے لیے بڑی تعداد میں غیر ملکی جنگجو افغانستان منتقل کرنا زیادہ خطرناک ہوگیا ہے۔
اسی وجہ سے دونوں تنظیمیں اب آن لائن بھرتی اور ایسے افراد کو متاثر کرنے پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں جو اپنے ممالک میں رہتے ہوئے انفرادی کارروائیاں کرسکتے ہیں۔ ماہرین ایسے خطرے کو ’’اکیلے حملہ آور‘‘ کی کارروائیوں میں اضافے کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق افغانستان میں موجودہ صورتحال کو 2001 کے حالات سے براہ راست مماثل قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ القاعدہ کی موجودہ افرادی قوت ماضی کے مقابلے میں بہت کم ہے اور عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف نگرانی اور خفیہ معلومات کا نظام بھی زیادہ مضبوط ہوچکا ہے۔
اس کے باوجود افغانستان میں متعدد دہشتگرد گروہوں کی موجودگی، تربیتی مراکز کے قیام اور پڑوسی ممالک میں سرگرم تنظیموں کے ساتھ روابط خطے کے لیے ایک اہم سکیورٹی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔