کراچی: پاکستان کا 61واں یومِ دفاع آج ملک بھر میں ملی جوش و جذبے اور قومی یکجہتی کے ساتھ منایا جا رہا ہے، اس موقع پر شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ملکی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔
یومِ دفاع کی مناسبت سے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ کراچی سے خیبر تک عوام پاکستان کے ان بہادر شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کر رہے ہیں جنہوں نے وطن کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
یومِ دفاع کے دن کا آغاز نمازِ فجر کے بعد شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی سے ہوا، جبکہ ملکی سلامتی، امن اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپوں جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21،21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ مختلف مقامات پر قومی پرچم لہرائے گئے اور شہداء کی یاد میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔
کراچی میں مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جہاں پاکستان فضائیہ اکیڈمی اصغر خان کے کیڈٹس نے گارڈز کے فرائض سنبھالے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ایئر آفیسر کمانڈنگ پاکستان فضائیہ اکیڈمی اصغر خان، ایئر وائس مارشل حسن فیصل تھے۔
کراچی کے ساحل کے قریب یومِ دفاع کی مناسبت سے دفاع دوڑ بھی منعقد کی گئی، جس میں بزرگوں، خواتین، نوجوانوں اور بچوں سمیت مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔
یومِ دفاع کے موقع پر مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نشانِ حیدر حاصل کرنے والے شہداء کیپٹن راجا محمد سرور شہید، میجر محمد طفیل شہید، میجر عزیز بھٹی شہید، میجر محمد اکرم شہید، سوار محمد حسین شہید، میجر شبیر شریف شہید، لانس نائیک محمد محفوظ شہید، پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، کیپٹن کرنل شیر خان شہید، حوالدار لالک جان شہید اور ہلالِ کشمیر سے نوازے گئے نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کو سلامی پیش کریں گے۔
6 ستمبر 1965 پاکستان کے جوانوں کی جرأت، بہادری اور عظیم قربانیوں کی یاد تازہ کرنے کا دن ہے۔ یہ دن قوم کو اتحاد، عزم اور استقامت کا پیغام دیتا ہے اور وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سپوتوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
6 ستمبر 1965 کو بھارت کی جانب سے پاکستان پر جارحیت کے بعد پاک فوج کے جوانوں نے بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے دشمن کے عزائم ناکام بنائے اور اسے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ اس موقع پر پاکستانی قوم بھی اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی اور اتحاد و یکجہتی کی مثال قائم کی۔