کوئٹہ: بلوچستان میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور دہشتگردی کی حمایت کے خلاف حکومتی کارروائی مزید سخت کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واضح کیا ہے کہ ملک توڑنے، ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے یا دہشتگردوں کی حمایت کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرکے قانون کے مطابق گرفتاریاں کی جائیں گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف ریاست مخالف بیانیے پر محکمہ انسداد دہشتگردی نے مقدمہ درج کیا ہے، جبکہ ان کی گرفتاری اور مقدمے کا اندراج قانون کے مطابق کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اور ریاست کے خلاف بات کرنے یا دہشتگردی کی حمایت کرنے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی شہری کو سیاستدانوں یا ان کے خلاف پریس کانفرنس اور سیاسی تنقید کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم ریاست مخالف سرگرمیوں اور دہشتگردوں کی حمایت کو آزادیِ اظہار کے دائرے میں نہیں لایا جاسکتا۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ ان کے خلاف بھی روزانہ متعدد افراد بات کرتے ہیں، لیکن ہر شخص کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق کارروائی اس وقت کی جاتی ہے جب کوئی شخص ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دے یا دہشتگردی کی حمایت کرے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی پاکستانی شہری ملک توڑنے یا ریاست کے خلاف ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوگا جو قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں، اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر گرفتاری بھی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیر داخلہ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان توڑنے، سکیورٹی فورسز، شہریوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو حکومت نے دہشتگرد قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے عناصر کے حق میں بات کرنا یا ان کے حق میں پریس کانفرنس کرنا بھی قانونی کارروائی کا باعث بن سکتا ہے۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ ریاست اور سکیورٹی اداروں کے خلاف تشدد یا دہشتگردی کی حمایت کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسے معاملات میں حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔