وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام بنا کر 15 خوارج کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اور پیشہ ورانہ صلاحیت پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ 36 گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے جس صبر، پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش بروقت ناکام بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے پوری طرح چوکس اور پرعزم ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گرد عناصر پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کو نقصان پہنچانے کے مذموم عزائم رکھتے ہیں، تاہم ریاستی ادارے اور پاکستانی قوم ان عزائم کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے یا صوبے کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدگی ان کے مذموم عزائم اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے منصوبوں کو مزید بے نقاب کرتی ہے۔ غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں نے اپنے خون سے امن کی بنیاد مضبوط کی ہے، قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور معاونت کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہی ملک میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ پاکستان کی سرزمین پر کسی بھی دہشت گرد گروہ کو امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ملکی خودمختاری، قومی سلامتی اور سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام تک قومی عزم اور جدوجہد جاری رہے گی۔