کراچی: صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سعید غنی نے سندھ کی تقسیم یا صوبے میں کسی نئے سیاسی انتظام کے قیام کی تجاویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں صرف ایک ہی حکومت ہوگی اور اس کے سوا کوئی بات قابل قبول نہیں ہوسکتی۔
سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ اس وقت خود بھی تذبذب کا شکار ہے، جبکہ جماعت اسلامی کراچی میں نئی متحدہ قومی موومنٹ بننے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کا موجودہ طرز سیاست اور شہر میں نفرت کی سیاست کو فروغ دینے کا انداز ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ کے سیاسی طریقہ کار سے مماثلت رکھتا ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں تحریک التوا کے بعد جو قرارداد پیش کی جائے گی، اس پر ہونے والی ووٹنگ سے یہ بات بھی واضح ہوجائے گی کہ کون اس مؤقف کے ساتھ کھڑا ہے اور کون اس کی مخالفت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کے نتیجے میں کئی سیاسی چہرے عوام کے سامنے بے نقاب ہوں گے اور بعض سیاسی جماعتوں کی سندھ میں سیاست بھی ختم ہوسکتی ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ کافی عرصے سے اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ جماعت اسلامی کو ماضی کی سیاسی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، لیکن اس کے بجائے وہ لوگوں کو مشتعل کرکے اپنی سیاست کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کے مطابق ہڑتال کی کال دینا، جلاؤ گھیراؤ کرنا اور عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور یہ ایک غیر سیاسی طرز عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی کو اپنی عوامی حمایت پر اعتماد ہے تو اسے عوام کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے، جبکہ جلاؤ گھیراؤ اور خوف کی فضا پیدا کرنا سیاسی دہشت گردی کے مترادف ہے۔
سعید غنی نے سندھ اسمبلی میں گزشتہ تین روز سے جاری بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب کسی کو یہ غلط فہمی نہیں رہنی چاہیے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ اسمبلی میں موجود اس کے ارکان صوبے کی تقسیم چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو سندھ اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے اور آئین کے تحت صوبے کی حدود میں تبدیلی یا نئے صوبے کے قیام سے متعلق معاملات میں دو تہائی اکثریت کی اہمیت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ نئے صوبے کے قیام کی مخالفت میں قراردادیں منظور کرچکی ہے اور انہیں امید ہے کہ اس مرتبہ بھی ایوان بھاری اکثریت سے ایسی قرارداد منظور کرے گا جس میں واضح کیا جائے گا کہ سندھ میں کسی نئے صوبے کی ضرورت نہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ قرارداد پر ہونے والی ووٹنگ سے یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ کون سندھ کو تقسیم کرنے کے حق میں ہے اور کون اس کی مخالفت کرتا ہے۔ ان کے بقول اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں کے مؤقف عوام کے سامنے کھل کر آجائیں گے۔
پنجاب اسمبلی کی جانب سے نئے صوبوں سے متعلق قراردادوں کے حوالے سے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ ہر صوبائی اسمبلی کو اپنے صوبے سے متعلق قرارداد منظور یا مسترد کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق پنجاب کے منتخب نمائندے اگر نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو یہ ان کا معاملہ ہے اور سندھ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
سعید غنی نے کہا کہ وہ سندھ کے شہری اور اس صوبے کے منتخب نمائندے ہیں اور سندھ اسمبلی میں صوبے کے عوام کی نمائندگی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی کے علاوہ سندھ کی دیگر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں، جن میں متحدہ قومی موومنٹ بھی شامل رہی ہے، نے متعدد مرتبہ سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سندھ میں علیحدگی پسند اور قوم پرست جماعتوں کی سیاست کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے جب بھی انتخابات میں حصہ لیا، علیحدگی پسند اور قوم پرست قوتوں کو واضح طور پر مسترد کیا اور پیپلز پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا۔
سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کے حقوق کا تحفظ ماضی میں بھی کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے بعض رہنما ایک طرف صوبوں کے قیام کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب آئین میں موجود طریقہ کار تبدیل کرنے کی تجاویز دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ وہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے، تو انہیں اپنے مؤقف پر واضح طور پر قائم رہنا چاہیے۔ سعید غنی کے مطابق انتظامی یونٹس کی تشکیل کی بات الگ معاملہ ہے، کیونکہ موجودہ قوانین میں ڈویژن، اضلاع، تعلقے اور ذیلی ڈویژن پہلے ہی موجود ہیں، جبکہ بلدیاتی نظام کے تحت بھی مختلف ادارے کام کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر انتظامی سہولت کے لیے ڈویژن، اضلاع یا تعلقوں کی تعداد میں اضافے کی بات کی جائے تو اس پر گفتگو ہوسکتی ہے، لیکن انتظامی یونٹس کی آڑ میں ایسا کوئی نظام لانے کی کوشش جس کے نتیجے میں سندھ میں متعدد وزرائے اعلیٰ یا مختلف حکومتیں قائم ہوں، اسے پیپلز پارٹی کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔
سعید غنی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ سندھ میں ایک ہی وزیراعلیٰ، ایک ہی گورنر، ایک ہی اسمبلی اور ایک ہی کابینہ ہوگی۔ ان کے مطابق انتظامی یونٹس کے نام پر صوبے میں کسی متبادل نظام یا تقسیم کی کوشش نہ پہلے قابل قبول تھی اور نہ آئندہ ہوگی۔