روس ایران کو تیز رفتار کروز میزائل ٹیکنالوجی دے رہا ہے؟ امریکا میں تشویش
تہران: روس کی جانب سے ایران کو جدید تیز رفتار کروز میزائل ٹیکنالوجی کے حصول میں مبینہ مدد فراہم کیے جانے کی اطلاعات نے خطے میں امریکی بحری جنگی جہازوں کی سلامتی سے متعلق نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ماسکو 2023 سے تہران کو ایسی ٹیکنالوجی کی تیاری میں تکنیکی معاونت فراہم کررہا ہے جو مستقبل میں ایران کو جدید اور انتہائی تیز رفتار میزائل خود تیار کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ خفیہ اور طویل المدتی میزائل منصوبہ 2023 سے جاری ہے اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی محاذ آرائی کے باوجود اس پر کام جاری رہا۔ ماہرین کے مطابق روس کی جانب سے ایران کو اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کی مبینہ منتقلی دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک اہم توسیع ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیرِ تیاری میزائل آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور زمین یا سمندر کی سطح کے انتہائی قریب پرواز کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تیز رفتاری اور کم بلندی پر پرواز کا امتزاج ایسے میزائلوں کو ریڈار کے لیے بروقت شناخت کرنا اور فضائی دفاعی نظام کے لیے انہیں روکنا زیادہ مشکل بنا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں روس کا اہم کردار ایران کو مخصوص انجن یا حرکی نظام تیار کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ ایسے انجن اردگرد کی فضا سے آکسیجن حاصل کرکے ایندھن کے جلنے کے عمل کو جاری رکھتے ہیں اور زیادہ رفتار سے پرواز کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے میزائل کے اندر ایندھن اور دیگر ضروری سامان کے لیے جگہ کو بھی زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اس نظام کا کامیاب تجربہ کرچکا ہے، تاہم اب تک اس بات کے حتمی شواہد موجود نہیں کہ مکمل میزائل تیار ہوچکا ہے یا ایرانی فوج نے اسے باقاعدہ طور پر اپنے ہتھیاروں میں شامل کرلیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق روس کی معروف فضائی اور خلائی کمپنیوں اور میزائل ماہرین نے اس منصوبے پر ایرانی حکام کے ساتھ براہ راست کام کیا ہے۔ روسی انجینئرز کے متعدد مرتبہ ایران جانے اور ایرانی میزائل تجربات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا جائزہ لینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق روسی ماہرین نے 2025 کے دوران ایرانی ٹیموں کو ایندھن کے نظام، ہوا کے داخلے کے راستے اور انجن کی کارکردگی سمیت مختلف تکنیکی معاملات میں رہنمائی فراہم کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کا تعاون صرف ابتدائی خاکوں اور تکنیکی دستاویزات تک محدود نہیں بلکہ عملی انجینئرنگ اور تجرباتی اعداد و شمار کے تجزیے تک بھی پہنچ چکا ہے۔
ایرانی میزائل پروگرام کے ماہر فابیان ہنز نے اس مبینہ ٹیکنالوجی منتقلی کو انتہائی حساس اور تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ ان کے مطابق ایران کئی دہائیوں سے اس نوعیت کی فوجی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
ہنز نے یہ بھی امکان ظاہر کیا کہ اس نوعیت کے بڑے اور حساس منصوبے کی منظوری روس کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران اس ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر حاصل کرنے اور مقامی سطح پر جدید تیز رفتار میزائل تیار کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ خطے میں امریکی بحری بیڑے اور جنگی جہازوں کے لیے ایک اہم نیا چیلنج بن سکتا ہے۔
ایسی ٹیکنالوجی ایران کی بحری دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرسکتی ہے اور خلیج اور خطے کے دیگر حساس سمندری علاقوں میں موجود امریکی بحری اثاثوں کے لیے خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔
تاہم رپورٹ میں سامنے آنے والے دعووں کے باوجود اس میزائل کی مکمل تیاری، بڑے پیمانے پر پیداوار اور ایرانی فوج میں عملی تعیناتی کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔ اس لیے موجودہ اطلاعات کو مبینہ روسی تعاون اور جاری ٹیکنالوجی منتقلی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے، نہ کہ مکمل طور پر فعال ہتھیار کی حتمی تصدیق کے طور پر۔