تازہ ترین

پیپلزپارٹی کا اسلام آباد بلدیاتی قانون ترمیمی بل کی مخالفت کا فیصلہ

0

اسلام آباد: اسلام آباد کے بلدیاتی نظام میں ترمیم کے معاملے پر حکومت کو اہم سیاسی رکاوٹ کا سامنا ہے، جہاں پیپلزپارٹی نے قائمہ کمیٹی میں حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بلدیاتی قانون میں تبدیلی کا معاملہ اب حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی اختلاف کا مرکز بن گیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں بلدیاتی اداروں سے متعلق نافذ کیا گیا آرڈیننس 5 ستمبر کو اپنی مدت مکمل ہونے پر ختم ہوجائے گا، جس کے باعث حکومت کے لیے نئے بلدیاتی قانون کی منظوری اہم ہوگئی ہے۔

حکومت کی جانب سے کل متعلقہ قائمہ کمیٹی میں اسلام آباد کے لیے نئے بلدیاتی قانون کا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومتی ارکان کو کمیٹی میں اکثریت حاصل ہونے کے باعث بل کی منظوری کی راہ ہموار ہے، تاہم معاملہ صرف قائمہ کمیٹی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے بھی منظور کرانا ضروری ہوگا۔

ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے قائمہ کمیٹی میں حکومت کے بل کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان بھی ایوان میں بل کی مخالفت کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتیں اسلام آباد کے بلدیاتی قانون سے متعلق حکومت کے مجوزہ قانون کی پارلیمان میں مشترکہ مخالفت کرسکتی ہیں۔ اگر دونوں جماعتوں کے درمیان مشترکہ حکمت عملی طے پاتی ہے تو حکومت کے لیے بل کی منظوری کا معاملہ مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

اس معاملے میں پیپلزپارٹی کا کردار خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے، کیونکہ حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کے باوجود پارٹی نے اسلام آباد کے بلدیاتی قانون سے متعلق مجوزہ ترمیم کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔ یوں حکومت کو ایک ایسے معاملے پر اتحادی جماعت کی مخالفت کا سامنا ہے جو اسلام آباد کے آئندہ بلدیاتی انتخابات اور مقامی حکومت کے نظام سے براہ راست متعلق ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت پیپلزپارٹی کی حمایت کے بغیر اسلام آباد کے لیے نیا بلدیاتی قانون منظور نہیں کراسکتی۔ اس صورتحال میں حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکرات اور سیاسی رابطے اہمیت اختیار کرگئے ہیں، جبکہ دونوں جانب سے آئندہ حکمت عملی طے کرنے کے لیے مشاورت جاری ہے۔

اسلام آباد میں بلدیاتی اداروں سے متعلق موجودہ آرڈیننس 5 ستمبر کو ختم ہونے جا رہا ہے، اس لیے حکومت کے پاس نئے قانون کی منظوری کے لیے وقت بھی محدود ہے۔ اگر مقررہ مدت تک قانون سازی مکمل نہ ہوئی تو بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ایک نئی قانونی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر 5 ستمبر تک بلدیاتی قانون کا بل پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور نہ ہوسکا تو الیکشن کمیشن آف پاکستان پرانی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دے سکتا ہے۔

اس صورتحال نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے مستقبل کو بھی اہم سوال بنا دیا ہے۔ حکومت نئے قانون کے ذریعے بلدیاتی نظام میں تبدیلی چاہتی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس قانون کی مخالفت پر غور کررہی ہیں۔ دوسری جانب آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کی مقررہ تاریخ قریب آنے کے باعث پارلیمانی سطح پر معاملہ تیزی سے آگے بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان ممکنہ مشترکہ مخالفت کی صورت میں حکومت کو نہ صرف پارلیمان میں سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے طریقہ کار سے متعلق بھی صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں یا نہیں، اور آیا 5 ستمبر سے قبل اسلام آباد کے لیے نیا بلدیاتی قانون دونوں ایوانوں سے منظور ہو پاتا ہے یا نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.