اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ممکنہ بیرونِ ملک منتقلی کے حوالے سے ایک نئی تجویز سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس میں ان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ، صاحبزادوں اور برطانوی حکومت کو بطور ضامن شامل کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم عمران خان کی جانب سے اس تجویز پر تاحال رضامندی ظاہر نہ کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔
انگریزی اخبار ڈان سے گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا کہ عمران خان کی ممکنہ بیرونِ ملک منتقلی کے لیے بعض حلقوں کی جانب سے ضمانت سے متعلق کوششیں جاری ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کے مطابق مبینہ طور پر زیرِ غور تجویز میں جمائما گولڈ اسمتھ، عمران خان کے بیٹوں اور برطانوی حکومت کو ضمانت دینے والوں میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
رہنما نے دعویٰ کیا کہ اس تجویز کے تحت ممکنہ طور پر یہ شرط بھی رکھی جا سکتی ہے کہ اگر عمران خان کو برطانیہ منتقل کیا جاتا ہے تو وہ وہاں کسی قسم کا سیاسی بیان جاری نہیں کریں گے۔ تاہم ان کے بقول عمران خان نے اس تجویز پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید بتایا کہ پارٹی کے بعض افراد کو امید تھی کہ موجودہ حالات میں عمران خان کے اہلِ خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت مل سکتی ہے، تاہم ملاقات کی اجازت نہ ملنے سے ان توقعات کو دھچکا پہنچا ہے۔
ان کے مطابق عمران خان کا مؤقف ہے کہ انہیں اسپتال منتقل کیا جائے یا کسی دوسری جگہ، وہ لانگ مارچ کی کال سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ رہنما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جاتا ہے تو چند روز بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کیے جانے کا امکان بھی زیرِ بحث ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ جو افراد موجودہ حالات میں بہتری کی توقع کر رہے ہیں، انہیں صورتحال کے پیش نظر محتاط رہنا چاہیے۔
واضح رہے کہ عمران خان کی بیرونِ ملک منتقلی، ضمانت یا برطانیہ منتقلی سے متعلق مذکورہ تمام باتیں پی ٹی آئی رہنما کے دعووں پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔