تازہ ترین

ٹرمپ کا وینزویلا کے تیل ذخائر پر امریکی کنٹرول کا اعلان

0

امریکا اور وینزویلا کے درمیان تیل کے شعبے میں ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا کے ثابت شدہ تیل کے 65 ارب بیرل سے زائد ذخائر میں اکثریتی کنٹرول حاصل کرلیا ہے، جبکہ اس منصوبے کا مقصد امریکی کمپنیوں کے ذریعے وینزویلا کی تیل پیداوار بحال کرنا اور امریکا کو مزید خام تیل فراہم کرنا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ امریکا نے نجی کاروباری شراکت داری کے ذریعے وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر میں اکثریتی کنٹرول حاصل کیا ہے۔

ٹرمپ نے معاہدے کی ساخت کے بارے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام پر امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے خرچ نہیں ہوں گے۔

وینزویلا کی قیادت نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملکی معیشت اور حکومتی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

یہ معاہدہ وینزویلا کے تیل کے شعبے میں امریکی کردار کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل ذخائر موجود ہیں، تاہم برسوں کی کم سرمایہ کاری، بدانتظامی اور پابندیوں کے باعث ملک اپنی مکمل پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم تیل پیدا کر رہا ہے۔

ٹرمپ کا اعلان کئی ہفتوں سے جاری امریکا اور وینزویلا کے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ مجوزہ انتظام کے تحت امریکی کمپنیوں کو وینزویلا کے بعض تیل کے میدانوں تک طویل مدتی رسائی اور امریکا کو خام تیل کی فراہمی کی ضمانت ملنے کا امکان ہے۔

وینزویلا کے حکام آئندہ ہفتے متعدد کمپنیوں، خصوصاً امریکی اداروں کو تیل کی تلاش اور پیداوار کے نئے حقوق دینے سے متعلق معاہدوں پر دستخط کی تیاری کر رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایک لیز ماڈل زیر غور تھا، جس کے تحت تیل کے میدان امریکی کمپنیوں کو نیلام کیے جاسکتے ہیں، تاہم وینزویلا کے قوانین اور آئینی معاملات کے باعث اس انتظام کو قانونی چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا اکثریتی کنٹرول کس طریقے سے استعمال کرے گا، کن تیل کے میدانوں یا کمپنیوں کو اس معاہدے میں شامل کیا گیا ہے۔ دستیاب فہرست کے مطابق متعلقہ تیل کے میدان اورینوکو بیلٹ اور جھیل ماراکائیبو کے علاقوں میں واقع ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکا کو مستحکم اور کم لاگت والا تیل ملے گا، جس سے پٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

روبـیو کے مطابق وینزویلا میں اس منصوبے کے ذریعے تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری، ہزاروں اچھی تنخواہوں والی ملازمتوں اور ملکی معیشت کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔

وینزویلا کی عبوری قیادت کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ 17 اسٹریٹجک تیل کے میدانوں کی ترقی سے پیداوار میں نمایاں اضافہ اور ملک کے لیے ٹیکس آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاہدے کے قانونی اور مالی ڈھانچے کی مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس کی کامیابی اور بڑی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی صلاحیت کا اندازہ لگایا جاسکے گا۔

ماہرین کے مطابق وینزویلا کے بھاری خام تیل کی پیداوار، نقل و حمل اور ریفائننگ کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اس لیے مختصر مدت میں امریکی پٹرول کی قیمتوں پر اس معاہدے کے اثرات واضح نہیں ہیں۔

وینزویلا نے 1970 کی دہائی میں اپنی تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا تھا، جبکہ سابق صدر ہیوگو شاویز کے دور میں ریاستی کنٹرول مزید مضبوط کیا گیا اور متعدد غیر ملکی کمپنیوں کے اثاثے بھی قومی تحویل میں لیے گئے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.