اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی اموات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے واقعے کو حادثہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آتشزدگی کے واقعے میں جس کی بھی غفلت ثابت ہوئی، اسے سامنے لایا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز میں آگ لگنے کا واقعہ حادثہ ہے، تاہم یہ واقعہ اس مؤقف کی بھی تائید کرتا ہے کہ موجودہ نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کررہا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں تاکہ غفلت یا کوتاہی کے ذمہ دار افراد کا تعین ہوسکے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ احتساب کا آغاز ان سے کیا جائے اور ان کے ماتحت کسی بھی سطح پر اگر کوئی ذمہ دار ہے تو اسے بھی نہیں بچنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے، جس کے بعد جو بھی ذمہ دار قرار پایا، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پمز کی موجودہ عمارت 1984 میں تعمیر کی گئی تھی اور آج یہاں روزانہ تقریباً ساڑھے 9 ہزار مریض آتے ہیں۔ ان کے مطابق اتنے بڑے اسپتال کے انتظامی اور بنیادی مسائل کو ایک وفاقی وزیر یا وزیراعظم کے لیے براہِ راست دیکھنا مناسب نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یا وفاقی وزیر کا کام کسی ایک اسپتال کے روزمرہ معاملات کو خود دیکھنا نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہونا چاہیے جو اداروں کو مؤثر انداز میں چلائے اور ذمہ دار افسران اپنے فرائض انجام دیں۔
وفاقی وزیر صحت نے واضح کیا کہ پمز میں آتشزدگی کے دوران دروازہ بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کے انخلا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی شہر کو وفاقی علاقہ قرار دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے تمام معاملات براہِ راست وزیراعظم یا وفاقی وزیر کو دیکھنے پڑیں۔
سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سیکریٹری صحت کو ہٹانا وزیراعظم کا اختیار تھا اور انہوں نے اپنا اختیار استعمال کیا ہے۔
واضح رہے کہ پمز اسپتال میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ وزیراعظم کی جانب سے سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی بھی سامنے آچکی ہے۔