اسلام آباد میں قومی سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے امت مسلمہ کے اتحاد، امن اور نئی نسل کی کردار سازی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کو مسلکی اور گروہی شناخت سے بالاتر ہوکر اسی طرح متحد ہونا چاہیے جیسے تحریک پاکستان کے دوران قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو وہ امت مسلمہ کو متحد کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ امت کے اتحاد اور امن کے لیے فیلڈ مارشل کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں مکہ معاہدہ ہوا، جو مسلم دنیا میں اتحاد اور امن کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ترکیہ پاکستان کے ساتھ آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہیں اور مسلم امہ کے اتحاد کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں 12 ربیع الاول عید میلاد النبی ﷺ کی مناسبت سے منعقدہ قومی سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نئی نسل کے اخلاق، کردار اور شخصیت کی تعمیر کے لیے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی اسوۂ حسنہ پر عمل سب سے بہترین راستہ ہے۔ کانفرنس میں وفاقی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، غیر ملکی سفارتکاروں، علمائے کرام، مشائخ عظام اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اسکالرز نے شرکت کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ 12 ربیع الاول کے موقع پر قومی سیرت کانفرنس کا انعقاد پاکستان کی قابلِ فخر قومی روایت بن چکا ہے۔ ہر سال ملک کے مختلف حصوں سے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام، محققین، مشائخ اور اسکالرز ایک چھت تلے جمع ہوتے ہیں اور سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی پوری انسانیت کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا مکمل پیغام ہے۔ زندگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں جسے آپ ﷺ نے اپنے اسوۂ حسنہ سے روشن نہ کیا ہو۔ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کا ہر واقعہ انسان کو اخلاق، صبر، حکمت، برداشت، عدل اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں تحریک پاکستان کی روح کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے، جب برصغیر کے مسلمان اپنی مسلکی اور گروہی شناختوں کو پسِ پشت ڈال کر قائداعظم کی قیادت میں متحد ہوگئے تھے۔ وزیراعظم کے مطابق آج بھی امت مسلمہ کو اسی جذبے، اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔
شہباز شریف نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں وحدت کے فروغ اور فتنہ پرور و مفاد پرست عناصر سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام ہماری اخلاقی اقدار کے پاسبان ہیں، ان کا احترام اور توقیر ہم سب پر لازم ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج کا عظیم اجتماع اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہم سب اللہ تعالیٰ کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی رحمت کے سائے میں ایک ملت ہیں۔ آپ ﷺ ہماری پہچان، عزت اور ایمان کا مرکز ہیں جبکہ آپ ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حسین اتفاق ہے کہ اس سال 12 ربیع الاول کا مبارک دن اگست کے مہینے میں آیا۔ پاکستان کے قیام کا دن بھی اسی مہینے میں آتا ہے اور تحریک پاکستان کے دوران مسلمانوں نے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم نے اسے پاکستان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور نبی کریم ﷺ کی رحمت سے جوڑتے ہوئے ملک کے لیے خیر و برکت کی امید ظاہر کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ قومی سیرت کانفرنس کا اس سال کا موضوع ’’نسل نو کا تحفظ، تعمیر اور کردار‘‘ نہایت اہم اور بروقت ہے۔ ان کے مطابق نئی نسل پاکستان کی امید اور مستقبل ہے، اس لیے اس کی تعلیم و تربیت، اخلاقی کردار اور شخصیت سازی ریاست اور معاشرے کی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان کیسا ہوگا، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آج ہم اپنی نسل کی تربیت کس انداز میں کررہے ہیں۔ اگر نئی نسل کو اعلیٰ اخلاق، علم، برداشت، دیانت اور ذمہ داری کا درس دیا جائے گا تو ملک کا مستقبل بھی اسی بنیاد پر مضبوط ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا اسوۂ حسنہ اخلاق اور کردار کا کامل ترین نمونہ ہے، جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہمیں ایسا روشن راستہ عطا کیا گیا ہے جس کی روشنی سے نئی نسل کے دل و دماغ کو منور کیا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم نے صلح حدیبیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں عقل، بصیرت، حکمت اور دوراندیشی کا درس دیتی ہے۔ بظاہر مشکل حالات میں بھی آپ ﷺ نے حکمت اور صبر سے کام لیا اور آنے والے وقت کی کامیابیوں کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے واقعہ طائف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب نبی کریم ﷺ کو شدید اذیت دی گئی تو آپ ﷺ نے صبر کا بے مثال مظاہرہ کیا اور اپنے مخالفین کی ہدایت کے لیے دعا فرمائی۔ وزیراعظم کے مطابق یہ انسانیت، برداشت اور عظیم اخلاق کا ایسا نمونہ ہے جس سے آج کے معاشرے کو بھی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
شہباز شریف نے مدینہ منورہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان قائم کیے گئے بھائی چارے کو بھی معاشرتی اتحاد کی بہترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرے کے افراد ایک دوسرے کے دکھ، درد اور پریشانی میں مددگار بن جائیں تو بڑے سے بڑے مسائل کو بھی آسانیوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ معاشی ہوں یا سماجی، بہت سے مسائل کا حل محبت، بھائی چارے، تعاون اور ایک دوسرے کا سہارا بننے میں موجود ہے۔ موجودہ دور میں سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے معاشرے میں برداشت، اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے قومی سیرت کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر وزارت مذہبی امور، علمائے کرام اور منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سیرت کانفرنس کی اس پاکیزہ روایت کو زندہ رکھنا ایک بڑی قومی کامیابی ہے۔