اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا موجودہ اتحاد فی الحال قومی اسمبلی کے فلور اور قانون سازی کے معاملات تک محدود ہے، تاہم سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
متحدہ اپوزیشن کے اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پہلے بھی خواہش تھی اور اب بھی ہے کہ مولانا ہمارے اتحاد کا حصہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی بہتری کے لیے سیاسی جماعتوں کو اہم قومی معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ملک، پارلیمان اور الیکشن کمیشن کی مضبوطی کے ایجنڈے پر متحد ہونا چاہیے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن جمہوری نظام کے استحکام کے لیے تمام جماعتوں کے درمیان رابطہ اور گفتگو کا سلسلہ برقرار رہنا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما بھی اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں آئے تھے، جو سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطوں اور مشاورت کے عمل کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپوزیشن کی تحریکوں اور سیاسی امور سے متعلق ذمہ داریاں اسد قیصر اور علامہ راجہ ناصر عباس کو سونپ رکھی ہیں۔ سیاسی کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی کے خلاف نعرے بازی نہ کریں اور سیاسی گفتگو کے دوران شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو جمہوری اور پارلیمانی انداز میں آگے بڑھانا چاہیے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کا راستہ کھلا رہنا چاہیے۔
دوسری جانب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال اپوزیشن اتحاد کا مقصد پارلیمنٹ کے اندر باہمی تعاون ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر حکومت کو ٹف ٹائم دیں گی۔
اسد قیصر نے واضح کیا کہ اس وقت عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے کوئی فیصلہ یا حکمت عملی زیر غور نہیں، جبکہ اپوزیشن اتحاد کی توجہ فی الحال پارلیمانی تعاون اور قانون سازی سے متعلق معاملات پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشاورت اور رابطے جاری رہیں گے اور پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے حکومت کی پالیسیوں پر مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کیا جائے گا۔