27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کے بعد خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے تیاریوں کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے۔ پارٹی کارکنوں نے وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ طویل قیام کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری سامان اکٹھا کرنا شروع کردیا، جبکہ احتجاج کے دوران ممکنہ رکاوٹوں اور گرفتاریوں سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے گرین سگنل ملنے کے بعد کارکنوں نے اسلام آباد میں قیام کے لیے بوریا بستر تیار کرنا شروع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق احتجاج کے دوران آنسو گیس سے بچاؤ کے لیے بھی کارکنوں کو تیار کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے مختلف نوعیت کی مشقیں بھی کی جارہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کی جانب سے لانگ مارچ کے لیے متبادل پلانز بھی تیار کیے جارہے ہیں۔ راستوں کی ممکنہ بندش اور رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے کرینیں ساتھ لے جانے پر بھی غور کیا جارہا ہے، جبکہ کارکنوں کو گرفتاریوں سے بچانے کے لیے بھی حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے۔
پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں نے سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ پارٹی قیادت کی کوشش ہے کہ لانگ مارچ کے اعلان کردہ پروگرام کے لیے زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو اسلام آباد پہنچایا جائے۔
گزشتہ روز وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں ضلع ہنگو کا دورہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے 20 لاکھ افراد کو اسلام آباد لانے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اب 40 لاکھ افراد کو وفاقی دارالحکومت لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور اس کی قیادت وہ خود کریں گے۔
وزیراعلیٰ کے اعلان کے بعد ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کارکنوں نے اسلام آباد میں طویل قیام کے لیے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان جمع کرنا شروع کردیا ہے۔ کارکنوں کو ممکنہ پولیس کارروائی، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں سے نمٹنے کے لیے بھی مختلف طریقہ کار سے آگاہ کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آنسو گیس سے بچاؤ کے لیے کارکنوں کے پاس ماسک رکھنے کا امکان ہے، جبکہ پانی اور نمک کا بھی خصوصی انتظام کیا جائے گا۔ اسی طرح صوابی سے آگے اٹک کے مقام پر ممکنہ رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے خیبرپختونخوا سے کرینیں ساتھ لے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ماضی میں بھی احتجاج اور لانگ مارچ کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے کرینیں ساتھ لے جانے کا اقدام کیا جاچکا ہے، جن کے ذریعے راستوں میں رکھے گئے بڑے کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں ہٹائی گئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق اسی تجربے کو ایک بار پھر استعمال کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب پارٹی قیادت نے لانگ مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف پلانز پر بھی کام شروع کردیا ہے۔ کارکنوں کو متحرک کرنے اور مختلف اضلاع سے قافلوں کی شکل میں اسلام آباد پہنچانے کے لیے بھی رابطے کیے جارہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ہنگو میں خطاب کے دوران کہا کہ اس مرتبہ انہوں نے واپسی کے تمام راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور 27 ستمبر کو کامیابی کے بعد ہی واپس آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود لانگ مارچ کی قیادت کریں گے اور کارکنوں کو بھی مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔
تاہم دوسری جانب پشاور میں لانگ مارچ کے حوالے سے فی الحال کوئی بڑی سیاسی گہماگہمی دکھائی نہیں دے رہی۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں تحریک انصاف کی جانب سے ریلیاں ضرور منعقد کی جارہی ہیں، جن کی قیادت وزیراعلیٰ خود کررہے ہیں، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان اجتماعات میں عوامی شرکت پارٹی کی توقعات کے مطابق نہیں۔
ذرائع کے مطابق 40 لاکھ افراد کو اسلام آباد لے جانے کے دعوے کے برعکس بعض ریلیوں میں چند ہزار افراد بھی جمع نہیں ہوسکے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر کے بعد ہنگو میں ہونے والی ریلی کے راستوں پر پہلے سے موجود رش کو بھی بعض مواقع پر ریلی کے شرکا کی تعداد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔
دوسری جانب پشاور میں مقامی شہریوں کی جانب سے تحریک انصاف کے مقابلے میں جماعت اسلامی کے دھرنے میں زیادہ دلچسپی اور شرکت کا بھی دعویٰ کیا جارہا ہے، جسے پی ٹی آئی کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔