تازہ ترین

ایران نے امریکا کو خبردار کردیا، کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دینے کا اعلان

0

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران تہران نے واضح کردیا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے کسی بھی ممکنہ کارروائی کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے اقتصادی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی حکمت عملی تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی مزید نمایاں ہوگئی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محبی نے کہا ہے کہ ایران نے ممکنہ اقتصادی جنگ سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کی وارننگ کے بعد سامنے آیا ہے۔

ایرانی کمانڈر نے امریکی دھمکیوں کو واشنگٹن کے لیے فوجی میدان میں مشکلات کی علامت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی فوجی کوششیں کامیاب ہوتیں تو واشنگٹن کو اقتصادی مہم چلانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

بریگیڈیئر جنرل محبی کے مطابق ایران امریکی دباؤ کے باوجود اپنی اقتصادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور تہران اپنے فیصلوں میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دباؤ کے باوجود اپنے معاملات کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ ایران موجودہ دباؤ کے باوجود اپنے معاملات سنبھال رہا ہے اور آنے والے دنوں میں اس حکمت عملی کے نتائج بھی واضح ہوجائیں گے۔ انہوں نے ایرانی معیشت کی صورتحال پر کسی بڑے خدشے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک موجودہ دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی حکام کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن تہران کے خلاف مزید سخت اقتصادی اقدامات کی تیاری کررہا ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران پر اضافی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔

تہران نے امریکی دباؤ اور پابندیوں کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مزید اقتصادی دباؤ ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔

ایرانی حکام اس سے قبل بھی دیگر ممالک کو امریکا کی نئی اقتصادی پابندیوں کی مہم کا حصہ بننے سے خبردار کرچکے ہیں۔ ایران کی سیکیورٹی قیادت نے امریکی دباؤ کی مہم میں شرکت کو سنگین اقدام قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی دباؤ کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تازہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ایران امریکا کی جانب سے ممکنہ اقتصادی یا دیگر اقدامات کے مقابلے کے لیے سیاسی، اقتصادی اور دفاعی سطح پر اپنی تیاریوں پر زور دے رہا ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے مزید اقدامات پر غور کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری سخت بیانات نے مستقبل میں صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.