تازہ ترین

1۔ میر رضا علی قتل کیس: عدالتی کمیشن 30 روز میں رپورٹ پیش کرے گا

0

کراچی میں نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کے پراسرار قتل کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے عدالتی کمیشن کو 30 روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے، تاہم مقتول کے اہلخانہ نے کمیشن کی تشکیل کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس مرحلے پر عدالتی کمیشن کا قیام کیس کی تحقیقات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

سندھ حکومت کی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دیا ہے، جس کی سربراہی سندھ ہائیکورٹ کے موجودہ جج جسٹس عمر سیال کریں گے۔

کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے کمیشن کی تشکیل پر مقتول کے خاندان کے تحفظات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آخرکار انصاف عدالت ہی سے ملنا ہے، اس لیے اسی عدالت کی جانب سے کیس کی تحقیقات میں کیا خرابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کے ساتھ تعاون کیا جائے تاکہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔

عدالتی کمیشن کے قیام سے متعلق جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پینل تحقیقات کے آئینی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گا، کیس کے حقائق کا تعین کرے گا اور تحقیقات میں شفافیت کو یقینی بنانے پر توجہ دے گا۔

میر رضا علی آئی بی اے کے گریجویٹ اور نوجوان کاروباری شخصیت تھے، جو 28 جولائی کو لاپتا ہونے کے ایک روز بعد کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مردہ حالت میں ملے تھے۔ ان کے والد مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا اور انہوں نے خودکشی کے امکان کو مسترد کیا ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کو کمر میں گولی ماری گئی تھی جبکہ جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔ رپورٹ میں جسم پر سیاہ نشانات اور پاؤں پر چوٹوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ جسم کے نچلے حصے میں موجود ٹشوز پر خون کے دھبے بھی پائے گئے۔

رپورٹ کے مطابق دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر طویل زخم اور فریکچر کی نشاندہی ہوئی، جبکہ جبڑے کے حصے میں بھی گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد سامنے آئے۔

حکومت کی جانب سے عدالتی کمیشن بنانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مقتول کے اہلخانہ نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی درخواست کی۔

جسٹس عدنان الکریم میمن نے چیمبر میں درخواست کی سماعت کی، جس کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست تک جواب طلب کرلیا۔

درخواست میں سندھ حکومت کے مختلف محکموں سمیت 19 افراد اور اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ میر رضا کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ اور ڈاکٹر سامیہ کو بھی فریقین میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ کیس کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے ارکان کے نام بھی درخواست میں شامل ہیں۔

مقتول کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کی تحقیقات اب تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ ان کے مطابق خاندان کو عدالتی کمیشن کی تشکیل کے بارے میں حکومت کی جانب سے براہ راست آگاہ نہیں کیا گیا بلکہ میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.