بھارت میں نوجوانوں کے احتجاج پر پولیس کا ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام، ایمنسٹی
نئی دہلی میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران بھارتی پولیس کی کارروائی پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی گئی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پولیس نے نئی دہلی اور مشرقی ریاست بہار میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ فائر کرنے والی شاٹ گنز، آنسو گیس، گرینیڈز، لاٹھیاں اور بجلی کے جھٹکے دینے والے آلات استعمال کیے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے عینی شاہدین کے بیانات، تصدیق شدہ ویڈیوز اور دیگر بصری شواہد کی بنیاد پر پولیس کارروائی کا جائزہ لیا۔ ایمنسٹی نے بہار کے ضلع سیوان میں پولیس اہلکار کی جانب سے ہجوم کے خلاف غیر قانونی طور پر مہلک طاقت استعمال کرنے کے دو واقعات کی بھی نشاندہی کی، تاہم ان واقعات میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
مظاہرے قومی میڈیکل داخلہ امتحان کے پرچہ لیک ہونے کے خلاف شروع ہوئے تھے اور 20 جولائی کو اس وقت کشیدگی میں تبدیل ہوگئے جب ہزاروں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔
ایمنسٹی کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے بعض واقعات ضرور پیش آئے، تاہم پولیس کا ردعمل ضرورت سے زیادہ سخت تھا۔ دوسری جانب دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کو مؤقف دیا کہ طاقت صرف اس وقت استعمال کی گئی جب مظاہرین نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔
بعد ازاں احتجاج کا دائرہ امتحانی بے ضابطگیوں سے بڑھ کر بے روزگاری، نوجوانوں کے لیے مواقع کی کمی اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف وسیع احتجاج میں تبدیل ہوگیا۔
اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھی ایک زخمی نوجوان مظاہرہ کرنے والے کے ہمراہ پولیس تھانے کے باہر احتجاج کیا اور مبینہ پیلٹ فائرنگ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، جس کے بعد پولیس نے شکایت پر مقدمہ درج کرلیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق یہ احتجاج 2024 میں نریندر مودی حکومت کے تیسری مرتبہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اسے درپیش بڑے سیاسی چیلنجز میں شمار کیا جارہا ہے۔