تازہ ترین

ایکسپورٹرز کیلئے بڑا اقدام، مارکیٹ انٹیلی جنس سسٹم کا افتتاح

0

اسلام آباد: یومِ آزادی کے موقع پر پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی آسان بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے ملک کے پہلے مارکیٹ انٹیلی جنس اینڈ ٹریڈ سپورٹ سسٹم کا افتتاح کردیا۔

ٹی ڈیپ کے تحت یومِ آزادی کی خصوصی تقریب کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوئی، جس میں 100 فٹ بلند قومی پرچم لہرایا گیا۔ تقریب کے دوران نئے تجارتی معاونتی نظام کا بھی باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔

نئے نظام کے ذریعے پاکستانی ایکسپورٹرز کو دنیا کے 95 ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے تحت پاکستانی مصنوعات کو حاصل مراعات، مختلف منڈیوں تک رسائی اور برآمدی مواقع کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔

تقریب میں سیکریٹری ٹی ڈیپ کمال شہریار نے قومی پرچم لہرایا، جبکہ سابق چیئرمین ٹی ڈیپ زبیر موتی والا، ایکسپورٹرز، کراچی چیمبر آف کامرس، صنعتی تنظیموں اور کاروباری برادری کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

سیکریٹری ٹی ڈیپ نے بتایا کہ ادارے کی خدمات کو تیزی سے ڈیجیٹل نظام میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ٹی ڈیپ کے پورٹل پر اس وقت 6 ہزار ایکسپورٹرز اور 1600 امپورٹرز رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ملک بھر کے 12 چیمبرز آف کامرس میں برآمد کنندگان کی رہنمائی اور معاونت کے لیے ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔

کمال شہریار نے کہا کہ ٹی ڈیپ کا بنیادی مقصد کاروباری برادری کو عالمی منڈیوں تک رسائی، تجارتی معلومات اور برآمدی مواقع فراہم کرنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف شعبوں کے لیے بین الاقوامی نمائشوں اور تجارتی سرگرمیوں کا دائرہ مسلسل وسیع کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال فوڈ اینڈ ایگرو نمائش انتہائی کامیاب رہی، جس کے نتیجے میں تقریباً 730 ملین ڈالر کے کاروباری مواقع پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق فوڈ اینڈ ایگرو نمائش 2026 رواں سال 23 سے 26 نومبر تک کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوگی۔

سیکریٹری ٹی ڈیپ نے کہا کہ علاقائی حالات کے باعث فوڈ اور ایگرو شعبے کی برآمدات کو بعض مشکلات کا سامنا رہا، تاہم ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں استحکام برقرار رہا، جبکہ خدمات کے شعبے کی برآمدات میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل کی برآمدات گزشتہ سال کے 17.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں رواں سال بڑھ کر 17.93 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی اور مقامی چیلنجز کے باوجود برآمدی شعبے نے مجموعی طور پر استحکام برقرار رکھا اور بعض شعبوں میں ترقی بھی ہوئی۔

کمال شہریار نے کہا کہ کسی بھی ملکی معیشت میں تجارت بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اسی لیے ٹی ڈیپ ہر سال کاروباری برادری کی ضروریات اور متعلقہ فریقین کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا سالانہ کاروباری منصوبہ تیار کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال ٹی ڈیپ کی جانب سے مجموعی طور پر 483 تقریبات منعقد کی جائیں گی، جبکہ ادارہ تقریباً 129 بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کرے گا۔ ان سرگرمیوں کا مقصد پاکستانی ایکسپورٹرز کو عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے۔

سیکریٹری ٹی ڈیپ کے مطابق ادارہ افریقا، آسیان، وسطی ایشیا اور یورپ سمیت دنیا کی اہم منڈیوں میں تجارتی سرگرمیوں اور نمائشوں میں شرکت کر رہا ہے۔ ایکسپورٹرز کو بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کے لیے تقریباً 50 فیصد سبسڈی بھی فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ٹی ڈیپ کی جانب سے منعقد کیے گئے مختلف تجارتی پروگراموں پر آنے والی لاگت کے مقابلے میں چار گنا زیادہ برآمدی آرڈرز حاصل ہوئے، جو تجارتی نمائشوں اور کاروباری روابط بڑھانے کی کوششوں کی مؤثریت کو ظاہر کرتا ہے۔

تقریب سے سابق چیئرمین ٹی ڈیپ زبیر موتی والا، ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدر وسیم وہرہ اور کاٹی کے چیئرمین جنید نقی نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے یومِ آزادی کے موقع پر پروقار تقریب کے انعقاد پر ٹی ڈیپ کو مبارکباد دی اور برآمدات میں اضافے کے لیے ادارے کی خدمات کو سراہا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.