اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان میں کارروائیاں، گھروں کی مسماری شروع
بیروت — جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے حوالے سے ایک بار پھر تشویشناک اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں مختلف علاقوں میں رہائشی گھروں کو دھماکوں سے تباہ کرنے اور نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ لبنانی حکام نے ان کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ امریکا نے بھی جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا سے متعلق معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کی امید ظاہر کی ہے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں گھروں اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ لبنانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مجدل زون، منصوری اور ان سے ملحقہ وادیوں میں متعدد رہائشی عمارتوں کو دھماکوں کے ذریعے تباہ کیا گیا، جبکہ بعض مقامات پر گھروں کو آگ لگانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق منصوری کے علاقے میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے دو فضائی حملے کیے۔ کارروائیوں کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوگئی، جبکہ مقامی آبادی کو مزید حملوں کا خدشہ بھی لاحق ہے۔
لبنانی ذرائع کے مطابق صور شہر سے بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے منصوری کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد علاقے میں فوجی کارروائیوں اور ممکنہ مسماری کے خدشات میں اضافہ ہوگیا تھا۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حالیہ دورۂ جنوبی لبنان کے دوران علاقے میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کو ضروری قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں موجود بعض گھروں کو مسمار کر رہی ہیں، جسے اسرائیل اپنی سکیورٹی ضروریات سے جوڑتا ہے۔
دوسری جانب لبنان کی حکومت نے گھروں کی منظم مسماری اور شہری علاقوں میں جاری کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رہائشی علاقوں میں اس نوعیت کی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔
لبنانی حکومت کا مؤقف ہے کہ جنوبی لبنان میں شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ علاقے میں مسلسل کشیدگی کے باعث مقامی شہریوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے جنوبی لبنان کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ اسرائیل امریکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کی تمام شرائط پر عمل کرے گا۔ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کی شق بھی شامل ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بار پھر لبنان کی علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔
جنوبی لبنان میں تازہ کارروائیوں نے ایسے وقت میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے جب خطے میں جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلا سے متعلق سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتیجے میں نہ صرف مقامی آبادی کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔