کراچی: ملک گیر گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نے کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، امپورٹ، ایکسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں بڑے پیمانے پر رکاوٹ کے باعث سپلائی چین متاثر ہونے لگی ہے اور ملک میں ایک بڑے اقتصادی بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
وفاقی حکومت اور ٹرانسپورٹ رہنماؤں کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے اپنے مطالبات کی منظوری اور ان کے حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے تک پہیے جام ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
وزارتِ مواصلات میں ہونے والے اہم اجلاس کے دوران ٹرانسپورٹرز کے مطالبات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، تاہم فریقین کے درمیان کسی حتمی معاہدے یا مطالبات کی باضابطہ منظوری پر اتفاق نہ ہوسکا۔
صدر گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد شہزاد اعوان کے مطابق وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل کرنے کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی، تاہم مذاکرات کے باوجود مطالبات کی حتمی منظوری سامنے نہیں آسکی۔
دوسری جانب گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹرز اپنے جائز اور قانونی مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق جب تک مطالبات کی منظوری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاتا، ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔
ملک گیر ہڑتال طویل ہونے کی صورت میں صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں پر دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ملک بھر کی صنعتوں کو خام مال کی ترسیل متاثر ہونے سے متعدد کارخانوں میں پیداواری عمل بھی متاثر ہونے لگا ہے۔
اسی طرح مارکیٹوں اور پروڈکشن یونٹس تک خوردنی تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی شدید متاثر یا معطل ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث سپلائی چین میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔
تجارتی سرگرمیوں، صنعتوں اور مارکیٹوں پر ہڑتال کے اثرات بڑھنے کی صورت میں اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور قیمتوں پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔