اسلام آباد: پی بی 9 کوہلو کے انتخابی معرکے میں میر چنگیز خان مری کو بڑا عدالتی ریلیف مل گیا۔ سپریم کورٹ نے 4 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ روک دیا، جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی رکنیت ایک بار پھر بحال ہوگئی۔
جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد ری پولنگ کے فیصلے پر حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز بھی جاری کردیئے۔
سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت اگست کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔
الیکشن کمیشن نے بلوچستان کے انتخابی ٹریبونل کے فیصلے کی روشنی میں پی بی 9 کوہلو کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر 27 اگست کو صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دیا تھا۔
2024 کے عام انتخابات میں پی بی 9 کوہلو سے مسلم لیگ (ن) کے میر چنگیز خان مری کامیاب قرار پائے تھے۔ انہیں 7 ہزار 544 ووٹ حاصل ہوئے تھے، جبکہ ان کے مدِمقابل میر نصیب اللہ خان نے 6 ہزار 277 ووٹ حاصل کیے تھے۔
بعد ازاں میر نصیب اللہ خان نے انتخابی نتائج کے خلاف درخواست دائر کی۔ اس درخواست پر بلوچستان کے الیکشن ٹریبونل نے جولائی 2026 میں میر چنگیز خان مری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے حلقے کے 4 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دیا تھا۔
الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کی تعمیل میں الیکشن کمیشن نے میر چنگیز خان مری کو ڈی نوٹیفائی کردیا تھا اور 27 اگست کو مذکورہ 4 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا شیڈول جاری کیا تھا۔
تاہم اب سپریم کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد ری پولنگ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے میر چنگیز خان مری کی رکنیت بحال کردی ہے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں، جبکہ کیس کی مزید سماعت اگست کے آخری ہفتے میں ہوگی۔