یمن جنگ میں مصر کی فوجی مداخلت تنازع مزید پیچیدہ کر دے گی، عباس عراقچی
ایران نے یمن میں جاری تنازع کے دوران مصر سمیت دیگر ممالک کی فوجی مداخلت کے ممکنہ نتائج پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونی مداخلت سے جنگ مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور مسئلے کا پُرامن حل مشکل ہو جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مصر کو اس پیچیدہ تنازع میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کرنا چاہیے اور اپنے سابقہ تجربات سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق مزید فوجی مداخلت کے بجائے سفارتی کوششوں کو موقع دینا ضروری ہے۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ مصر نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یمن میں براہِ راست جنگ میں شریک نہیں ہوگا۔ دوسری جانب مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے پارلیمنٹ سے بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی، تاہم حوثیوں کے خلاف ممکنہ فوجی اقدام پر پارلیمانی بحث 26 اکتوبر تک مؤخر کر دی گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات کرانے کی پیشکش بھی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی سفارتی کوششیں تنازع کے خاتمے میں مدد دے سکتی ہیں، تاہم تاحال دونوں فریقوں کی جانب سے اس پیشکش کا جواب موصول نہیں ہوا۔
یمن میں جاری کشیدگی کے تناظر میں بحیرۂ احمر اور باب المندب کے علاقے میں بحری سلامتی کے معاملات بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق حوثیوں کی جانب سے بحری ناکہ بندی اور سعودی شہروں میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے واقعات نے علاقائی صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
عباس عراقچی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران اس تنازع کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی رابطوں پر زور دے رہا ہے، جبکہ مصر کی ممکنہ فوجی شمولیت کے بارے میں خدشات بھی ظاہر کر رہا ہے۔