وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی آبی سلامتی کو بنیادی قومی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی ملک کی ریڈ لائن ہے اور بھارت کی جانب سے پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے ہمراہ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے یہ مؤقف پیش کیا۔ اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جن میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور مالدیپ کے درمیان 20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ بھی کیا گیا، جن کا مقصد مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پانی سے متعلق اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان اپنی آبی سلامتی کو اہمیت دیتا ہے اور پانی کو دباؤ ڈالنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔