نئی دہلی: بھارت میں ووٹر فہرستوں میں نظرثانی کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رہا، مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں کی ایک تحریک کی جانب سے مختلف ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔
مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کے ذریعے انتخابی فہرستوں میں من پسند تبدیلیاں کی جارہی ہیں اور اس عمل میں حکمران جماعت سے وابستہ افراد کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔
الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
تلنگانہ اور بہار سمیت مختلف ریاستوں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جبکہ بنگلورو میں نوجوانوں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے مظاہرے میں شرکت کی۔
مظاہرین نے ووٹر کے حق اور انتخابی عمل میں شفافیت کے حق میں نعرے لگائے۔ اس دوران کئی مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر ہر ووٹ اور ہر نام کی اہمیت اجاگر کی گئی تھی۔
دوسری جانب کانگریس نے الزام عائد کیا کہ نئی دہلی میں احتجاج کے دوران پولیس نے پارٹی رہنماؤں کے خلاف سخت کارروائی کی اور راہول گاندھی، پریانکا گاندھی اور دیگر رہنماؤں کو مختصر طور پر حراست میں لیا گیا۔
دہلی پولیس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق ذمہ داریاں انجام دی جارہی ہیں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپوزیشن کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔