بیوروکریسی میں بڑی اصلاحات، CSS امتحان کا طریقہ کار تبدیل، 11 نئے کیڈرز کی تجویز
وفاقی حکومت نے سول سروس کے نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں پر مشتمل اصلاحاتی پیکیج کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت بھرتیوں، تربیت، ترقی، کارکردگی کے جائزے اور بیوروکریسی کے انتظامی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ پیکیج میں 11 نئے پروفیشنل کیڈرز کے قیام اور CSS امتحان کے موجودہ طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔
اصلاحات کی تفصیلات وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت ہونے والے مشاورتی اجلاس میں پیش کی گئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے قائم کی گئی دو کمیٹیوں نے ستمبر 2024 سے اب تک 18 اجلاس کیے، جبکہ 46 سفارشات میں سے 43 پر اتفاق رائے حاصل کیا گیا ہے۔
مجوزہ اصلاحات کے تحت ہیومن ریسورس، قانون، انجینئرنگ، سائنس و ٹیکنالوجی، آئی ٹی و ٹیلی کام، توانائی، موسمیاتی امور، زراعت و جنگلات، تعلیم اور صحت سمیت 11 خصوصی پروفیشنل کیڈرز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو انسانی وسائل اور ادارہ جاتی ترقی کے نئے ڈویژن میں تبدیل کرنے اور وفاقی سطح پر فیصلہ سازی کے مراحل پانچ سے کم کرکے تین کرنے کی تجویز ہے۔
نئے نیشنل ایگزیکٹو سروس فریم ورک کے تحت گریڈ 20 اور اس سے اوپر کی بعض اہم اسامیوں کو کھلے مقابلے کے لیے پیش کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان عہدوں کے لیے سرکاری افسران کے ساتھ نجی شعبے کے ماہرین اور تعلیمی ماہرین بھی مقابلہ کرسکیں گے، جبکہ تعیناتی پانچ سالہ معاہدے اور طے شدہ کارکردگی اہداف سے منسلک ہوگی۔ پولیس سروس اور فارن سروس کو اس مجوزہ نظام سے مستثنیٰ رکھنے کی تجویز ہے۔
CSS امتحان کو ختم نہیں کیا جائے گا، تاہم اس کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ لازمی مضامین میں ایسے، پریسیس اینڈ کمپوزیشن، اسلامیات، مطالعہ پاکستان اور کرنٹ افیئرز اردو یا انگریزی میں دینے کا اختیار ہوگا، جبکہ انگریزی کی بنیادی صلاحیت کا جائزہ ابتدائی مرحلے میں لینے کی تجویز ہے۔
ابتدائی ٹیسٹ یعنی MPT میں کامیابی کا معیار 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کرنے، تجزیاتی صلاحیتوں پر مبنی سوالات شامل کرنے اور منفی مارکنگ ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بھرتیوں کے پورے عمل کو ڈیجیٹل بنانے اور اسے چھ ماہ یا اس سے کم مدت میں مکمل کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
اصلاحات میں بلوچستان، سندھ، اقلیتوں اور خواتین کے خالی رہ جانے والے کوٹے کو پُر کرنے کے لیے ترجیحی اقدامات کی بھی تجویز شامل ہے۔
نئے نظام کے تحت ہر وزارت وزیراعظم کے ساتھ سالانہ کارکردگی معاہدہ کرے گی، جبکہ سرکاری ملازمین کی کارکردگی کا سال میں دو مرتبہ جائزہ لینے کی تجویز ہے۔ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین کے لیے ملازمین پر ہونے والے مجموعی اخراجات کے پانچ فیصد تک رقم بطور اعزازیہ مختص کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
قومی انتظامی تربیتی کورس کا دورانیہ 18 ہفتوں سے کم کرکے 10 ہفتے کرنے جبکہ موجودہ قومی اور خصوصی تربیتی اداروں کو ضم کرکے نیشنل یونیورسٹی آف پبلک ایڈمنسٹریشن قائم کرنے کی تجویز بھی اصلاحاتی پیکیج کا حصہ ہے۔
اصلاحات کے مطابق سرکاری افسران کی بھرتی اور تعیناتی میں متعلقہ شعبے کی مہارت کو زیادہ اہمیت دینے کا مقصد یہ ہے کہ افسران کو ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ تخصص سے مطابقت رکھنے والی ذمہ داریاں دی جائیں۔
حکومت کے مطابق ان اصلاحات کے لیے آئینی ترمیم درکار نہیں ہوگی۔ منظوری کے بعد ایک عمل درآمد کمیٹی پیش رفت کا ماہانہ جائزہ لے کر وزیراعظم کو رپورٹ کرے گی، جبکہ پورے اصلاحاتی پیکیج پر عمل درآمد کے لیے 120 دن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اہم نوٹ: یہ اصلاحات پیکیج کی مجوزہ تبدیلیاں ہیں؛ جب تک متعلقہ قواعد، نوٹیفکیشنز اور FPSC کی نئی ہدایات جاری نہیں ہوتیں، CSS امیدواروں کے لیے موجودہ سرکاری قواعد ہی قابلِ عمل رہیں گے۔