نائن الیون سے عالمی نظام تبدیل، بین الاقوامی قانونی ڈھانچہ کمزور ہوا: مشاہد حسین
اسلام آباد: 9/11 حملوں کو 25 برس مکمل ہونے کے موقع پر پاکستان میں ہونے والی ایک خصوصی نشست میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ان حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگوں اور فوجی مداخلتوں نے عالمی طاقت کے توازن، بین الاقوامی قانون اور خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
اسلام آباد میں منعقدہ خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دائرہ وسیع ہوا اور اس کے اثرات صرف فوری سیکیورٹی ردعمل تک محدود نہیں رہے۔
ان کے مطابق بعد کی فوجی مداخلتوں سے انسانی جانوں اور معیشتوں کو بھاری نقصان پہنچا، جبکہ پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک کو بھی طویل عرصے تک عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔
مشاہد حسین سید نے براؤن یونیورسٹی کے Costs of War منصوبے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 9/11 کے بعد کی جنگوں پر امریکا نے تقریباً 8 کھرب ڈالر خرچ کیے، جبکہ ان جنگوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور کروڑوں افراد بے گھر ہوئے۔ مختلف مطالعات میں ان جنگوں کے انسانی نقصانات کے اعداد و شمار مختلف انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تقریباً دو دہائیوں پر محیط امریکی مداخلت نے بھی خطے کی سیاست اور سیکیورٹی صورتحال کو متاثر کیا، جبکہ پاکستان بالخصوص سابق فاٹا کے علاقوں میں بھی اس دور کے اثرات نمایاں رہے۔
مشاہد حسین سید کے مطابق 9/11 کے بعد کے حالات نے عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی کے عمل کو تیز کیا اور چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سمیت مختلف طاقتوں کے ابھرنے کو بھی اسی وسیع تر تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔
انہوں نے اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف تعصب میں اضافے کو بھی 9/11 کے بعد کے دور کا ایک اہم اثر قرار دیا اور کہا کہ موجودہ عالمی کشیدگی کو سمجھنے کیلئے تاریخی واقعات، سیاسی بیانیوں اور جغرافیائی سیاسی مفادات کا جائزہ ضروری ہے۔
نشست میں بین الاقوامی قانونی نظام کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ مقررین نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران اختیار کیے گئے بعض طریقہ کار نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے کردار سے متعلق اہم سوالات پیدا کیے۔
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے مطابق نشست میں 9/11 کے بعد عالمی طاقت کے توازن، بین الاقوامی قانون، جنگوں کے انسانی و معاشی اثرات اور پاکستان سمیت خطے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔