لندن: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کو برقرار رکھنے اور پائیدار ترقی کیلئے مالی و ادارہ جاتی اصلاحات آگے بڑھا رہی ہے، جبکہ نجی شعبے کو معاشی سرگرمیوں میں زیادہ مؤثر کردار دینے کیلئے سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنایا جا رہا ہے۔
لندن میں پاکستان انویسٹمنٹ راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا اصلاحاتی ایجنڈا مالی استحکام کے ساتھ نجی شعبے کیلئے کاروباری مواقع بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالیاتی استحکام کے اقدامات کے نتیجے میں بنیادی بجٹ سرپلس، بجٹ خسارے میں کمی اور محصولات میں بہتری سمیت مختلف شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق ادارہ جاتی اور مالی اصلاحات کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تبدیلیاں، مالی معاملات میں شفافیت اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنے کیلئے اقدامات بھی جاری ہیں۔
وزیر خزانہ نے ٹیکس نظام میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس حکام کے صوابدیدی اختیارات محدود کیے گئے ہیں اور ٹیکس معاملات میں خصوصی رعایت کی پالیسی اختیار نہیں کی جارہی۔ ان کے مطابق تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی معیشت کو چیلنجز درپیش ہیں، جبکہ خطے کی کشیدگی نے عالمی تیل کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں اور عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے جائزے مقررہ وقت پر مکمل کیے ہیں اور ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں بھی بہتری آئی ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی استحکام کے ساتھ نجی شعبے کو آگے بڑھانے اور ملک میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کیلئے اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی۔