تازہ ترین

بلوچستان کی بیٹیاں پاکستان کا نام روشن کرسکتی ہیں، ڈاکٹر ربابہ بلیدی

0

کوئٹہ: بلوچستان میں خواتین اور بچیوں کی کھیلوں میں بڑھتی ہوئی شرکت نے ایک بار پھر اس عزم کو اجاگر کردیا ہے کہ صوبے کی باصلاحیت بیٹیاں مناسب مواقع اور سہولیات میسر آنے پر قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرسکتی ہیں۔ کوئٹہ میں 7ویں خواتین بلوچستان ووشو چیمپئن شپ 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی مشیر ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کھیلوں کو نوجوان نسل کی شخصیت سازی اور مستقبل سنوارنے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ کھیل نوجوانوں میں خوداعتمادی، نظم و ضبط اور مثبت سوچ پیدا کرتے ہیں، جبکہ لڑکیوں اور خواتین کے لیے کھیلوں کے مواقع میں اضافہ ان کی صلاحیتوں کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی بیٹیاں باصلاحیت ہیں اور اگر انہیں مناسب سہولیات، تربیت اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف صوبے بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کرسکتی ہیں۔

صوبائی مشیر ترقیِ نسواں نے کھیلوں کے میدان میں بچیوں کی بڑھتی ہوئی شرکت کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو کھیلوں میں آگے بڑھنے کے لیے بھرپور مواقع ملنے چاہئیں۔ ان کے مطابق کھیل صرف جسمانی صحت کے لیے اہم نہیں بلکہ لڑکیوں میں خوداعتمادی، قیادت اور فیصلہ سازی کی صلاحیتیں بھی اجاگر کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی بچیاں کھیلوں کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کررہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ انہیں جدید تربیتی سہولیات اور بہتر مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے میدان آباد ہوں گے تو نوجوانوں کا مستقبل روشن ہوگا۔ صحت مند اور باصلاحیت نوجوان ہی معاشرے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں، اس لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

صوبائی مشیر نے کہا کہ محکمہ ترقیِ نسواں بچیوں اور خواتین کو کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے لیے مواقع اور سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔ خواتین اور بچیوں کی ترقی و فلاح محکمہ ترقیِ نسواں کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ خواتین اور بچیوں کو اپنی صلاحیتیں سامنے لانے کے لیے ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں اور مختلف شعبوں میں اپنی قابلیت منوا سکیں۔

ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے چیمپئن شپ میں شریک کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ ووشو سمیت دیگر کھیلوں میں خواتین کی شرکت صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.