تازہ ترین

سہیل آفریدی کی پنجاب کے ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات، 27 ستمبر کی تحریک تیز کرنے پر اتفاق

0

لاہور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لاہور میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں 27 ستمبر کو ہونے والی احتجاجی سرگرمیوں کے سلسلے میں عوامی رابطہ مہم جاری رکھنے اور اسے مزید منظم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں شریک رہنماؤں کے مطابق لاہور میں گزشتہ روز ہونے والی سرگرمی میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ اس کے لیے منتظمین کی جانب سے باقاعدہ کال نہیں دی گئی تھی بلکہ لوگ خود سڑکوں پر نکلے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پنجاب پولیس کی کارروائیوں پر بھی اعتراضات اٹھائے اور الزام عائد کیا کہ کارکنوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، راستے بند کیے گئے اور لوگوں کو احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ یہ الزامات متعلقہ حکام کی جانب سے آزادانہ طور پر ثابت شدہ نہیں ہیں۔

سہیل آفریدی نے اپنے مؤقف میں کہا کہ سیاسی کارکنوں کو دباؤ اور خوف کے ماحول میں رکھنے کے بجائے ان کے آئینی اور سیاسی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے 27 ستمبر کی احتجاجی سرگرمی کے لیے عوامی رابطہ مزید بڑھانے پر زور دیا۔

انہوں نے لاہور میں پیش آنے والے بعض واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس نے کارکنوں کو گرفتار کیا اور ان کی نقل و حرکت میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ انہیں گزشتہ رات پولیس اہلکاروں نے ایک پولیس وین میں بٹھایا اور کچھ دیر لاہور کی مختلف سڑکوں پر لے جانے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔

دستیاب رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی نے اس واقعے کو اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین قرار دیا، جبکہ انہوں نے پنجاب حکومت اور پولیس سے سیاسی سرگرمیوں کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعلیٰ نے ایک کارکن اشتیاق احمد کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ میلاد کی تیاریوں میں مصروف تھے جب پولیس کارروائی کے دوران انہیں گرم تیل میں پھینکا گیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے اور بعد ازاں انتقال کرگئے۔ یہ دعویٰ بھی سہیل آفریدی اور ان کی جماعت کی جانب سے بیان کیا گیا ہے، جبکہ اس واقعے کی مکمل آزادانہ تفصیلات اس رپورٹ میں دستیاب نہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ 27 ستمبر کی احتجاجی سرگرمی کے لیے تیاریوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دوسری جانب دستیاب حالیہ رپورٹ کے مطابق لاہور میں ان کی سیاسی سرگرمیوں کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی اور بعض کارکنوں کی گرفتاریوں کے دعوے بھی سامنے آئے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں اور رکاوٹیں جاری رہیں تو خیبرپختونخوا کی جانب سے سخت سیاسی ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.