اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب کے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں مشرقی مغربی تیل پائپ لائن پر حوثیوں کے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ پائپ لائن کو نقصان پہنچنے کے ساتھ شہری بھی زخمی ہوئے۔ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور برادر ملک سعودی عرب کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے، جبکہ ایسے حملے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
پاکستان نے سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔
دوسری جانب ایران نواز حوثیوں کی یمن کے ساحلی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی نے باب المندب آبنائے کے حوالے سے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ حوثی جنگجو آبنائے کے درمیان واقع جزیرہ پریم تک پہنچ گئے ہیں، جس سے انہیں بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے کو متاثر کرنے کی اضافی صلاحیت حاصل ہوگئی ہے۔
آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث سعودی عرب پہلے ہی بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کے ذریعے اپنی تیل کی ترسیل پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ باب المندب بھی متاثر ہونے کی صورت میں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو مزید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کرکے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی مدد طلب کی، تاہم واشنگٹن نے فی الحال براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کرتے ہوئے انٹیلی جنس معاونت فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کی ترجیح بحیرہ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنانا اور علاقائی شراکت داروں کو اپنی سلامتی کے مسائل خود سنبھالنے کے لیے بااختیار بنانا ہے۔
حوثیوں کی جانب سے باب المندب میں پیش قدمی نے ایسے وقت میں خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ کردی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری جنگ پہلے ہی عالمی توانائی اور تجارت کے لیے بڑے خدشات پیدا کرچکی ہے۔