جنگ کے باوجود ایران نے زیرِ زمین بیلسٹک میزائلوں کی تیاری دوبارہ شروع کردی
شدید فضائی حملوں اور جنگ کے دوران میزائل سازی کے مراکز کو پہنچنے والے بڑے نقصان کے باوجود ایران نے زیرِ زمین تنصیبات میں بیلسٹک میزائلوں کی محدود پیمانے پر تیاری دوبارہ شروع کردی ہے۔
امریکی اور علاقائی حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق ایران میں میزائلوں کی پیداوار فی الحال جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کم ہے، جبکہ نئی تیاری میں زیادہ تر وہ پرزہ جات استعمال کیے جارہے ہیں جو جنگ سے قبل ذخیرہ کیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں ایران کے میزائل سازی کے کئی صنعتی مراکز کو نقصان پہنچا، جبکہ بحری ناکہ بندی کے باعث ٹھوس ایندھن کے اجزا اور میزائلوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے دیگر اہم پرزہ جات کی درآمد بھی مشکل ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق ایران نے فضائی حملوں کے نتیجے میں تباہ یا بند ہونے والے بعض میزائل اڈوں تک رسائی کے لیے سرنگوں کے راستے بھی دوبارہ بحال کرلیے ہیں، جس سے زیرِ زمین تنصیبات میں سرگرمیاں بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔
اسرائیلی فوجی جائزوں میں بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران کی زیرِ زمین محفوظ تنصیبات میں موجود متعدد ہتھیار اب بھی قابلِ استعمال حالت میں ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں شامل مصنوعی سیاروں سے حاصل کردہ تصاویر میں ایران کے مختلف علاقوں میں تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور میزائلوں کی پیداوار سے متعلق مراکز کی تیزی سے بحالی کے آثار بھی دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی حالیہ سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شدید حملوں کے باوجود اس کے میزائل پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں ہوگا اور زیرِ زمین تنصیبات اس پروگرام کی بحالی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔