27 ستمبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ نے سیاسی کشیدگی مزید بڑھا دی ہے، وفاقی حکومت نے مارچ روکنے کے لیے قانونی اور عدالتی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ منصوبہ ترک نہ کیا گیا تو دیگر اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے 27 ستمبر کو بڑے احتجاج کا اعلان برقرار رکھا ہے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پہلی ترجیح قانونی اور عدالتی ذرائع کے ذریعے مسئلے کو حل کرنا اور اسلام آباد میں کسی بھی قسم کے تصادم سے بچنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ اسلام آباد میں امن و امان برقرار رہے اور کسی قسم کی محاذ آرائی کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ ان کے مطابق ماضی میں جب بھی پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا، وہ پرامن مارچ کی صورت میں نہیں رہا بلکہ اس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔
طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس ایسی اطلاعات موجود ہیں جن کے مطابق پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پرامن اجتماع کے بجائے پرتشدد ہوسکتا ہے اور اس کے ذریعے اسلام آباد میں صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ اگر عدالتی اور قانونی ذرائع سے پرامن حل نکالا جاسکا تو یہ حکومت کے لیے بہتر ہوگا، تاہم اگر پی ٹی آئی نے مارچ کا منصوبہ ترک نہ کیا تو حکومت اسے روکنے کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرے گی۔
مذاکرات کے امکان سے متعلق سوال پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف خود قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سے رابطہ کرکے مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں اور اپوزیشن لیڈر اپنی پسند کی جگہ پر مذاکرات کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع نے حکومت کی جانب سے مارچ روکنے کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے کہ احتجاج ابھی ہوا ہی نہیں اور ایک عام شہری کی درخواست پر عدالت کارروائی کررہی ہے۔
انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے احتجاج کو جواز بنا کر ایک سیاسی کھیل کھیلنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی 9 مئی کے واقعے میں بھی ملوث نہیں تھی اور اب اس کے نام پر مزید اقدامات کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حکومت کی مذاکرات کی پیشکش پر خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران پی ٹی آئی تین مرتبہ مذاکرات کے لیے تجاویز لے کر آگے آئی، لیکن ہر بار بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب بھی پی ٹی آئی کی سیاسی تحریک زور پکڑتی ہے اور حکومت کو خطرہ محسوس ہوتا ہے یا کارکن اسلام آباد کی طرف بڑھتے ہیں تو حکومت کو مذاکرات یاد آجاتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات نے حکومت کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 27 ستمبر کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سوہیل آفریدی کی قیادت میں تقریباً 20 لاکھ افراد اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت گورنر راج لگانا چاہتی ہے، سوہیل آفریدی کو نااہل کرنا چاہتی ہے، گرفتاری کرنا چاہتی ہے یا کوئی اور کارروائی کرنا چاہتی ہے تو 27 ستمبر سے پہلے کرلے، لیکن 27 ستمبر کو پی ٹی آئی اپنے کارکنوں کی بڑی تعداد کے ساتھ اسلام آباد پہنچے گی۔
یوں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان 27 ستمبر کے احتجاج پر اختلاف مزید شدت اختیار کرگیا ہے، جبکہ قانونی کارروائی، مذاکرات کی پیشکش اور ممکنہ احتجاج نے ملک کی سیاسی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔