تازہ ترین

روبوٹکس میں چین کی نئی پیش رفت، انسان سے تیز دوڑنے والا روبوٹ تیار

0

بیجنگ: چین نے روبوٹکس کی دنیا میں ایک اور نمایاں سنگِ میل عبور کرلیا، جہاں انسان نما روبوٹ ’تیان گونگ الٹرا‘ نے 100 میٹر کی دوڑ صرف 8.64 سیکنڈ میں مکمل کرکے دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ کے عالمی ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

رائٹرز کے مطابق بیجنگ میں تیار کیے گئے اس ہیومنائیڈ روبوٹ نے ورلڈ ہیومنائڈ روبوٹ گیمز میں 100 میٹر کا فاصلہ 8.64 سیکنڈ میں طے کیا، جو یوسین بولٹ کے انسانی عالمی ریکارڈ سے تقریباً ایک سیکنڈ کم ہے۔

تاہم روبوٹ کے انجینئرز کے لیے اصل چیلنج اب اس کی رفتار سے آگے بڑھ کر اسے زیادہ قابلِ اعتماد اور روزمرہ کے عملی کاموں کے قابل بنانا ہے۔ روبوٹ کی تیاری کے سربراہ 34 سالہ انجینئر جیک گو کے مطابق موجودہ ہیومنائیڈ روبوٹس اس مرحلے میں ہیں جہاں ابتدائی دور کی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں، یعنی پہلے جسمانی ساخت اور حرکت کو قابو میں لانا ضروری ہے، جس کے بعد مصنوعی ذہانت کے ذریعے انہیں پیچیدہ کاموں کے قابل بنایا جائے گا۔

بیجنگ کے روبوٹک مرکز ’ایکس ہیومنوئڈ‘ میں انجینئرز روبوٹ کے سافٹ ویئر، موومنٹ سسٹم اور ہارڈویئر کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ کمپنی کے روبوٹس صنعتی شعبے میں آزمائشی طور پر ڈبے اٹھانے اور انہیں شیلف پر رکھنے جیسے کام بھی انجام دے رہے ہیں۔

جیک گو کے مطابق چھوٹے انسان نما روبوٹس ابتدائی مرحلے میں تجارتی خدمات اور ہلکی صنعت میں استعمال کیے جاسکتے ہیں، جبکہ ’تیان گونگ الٹرا‘ جیسے طاقتور روبوٹس مستقبل میں بیرونی معائنوں اور ہنگامی امدادی کارروائیوں میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.