ایران صورتحال بگڑی تو عالمی معاشی استحکام خطرے میں پڑ جائے گا، مسعود خان
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب بتدریج معاشی جنگ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جس کے طویل عرصے تک جاری رہنے کی صورت میں عالمی معیشت کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سابق پاکستانی سفیر سردار مسعود خان نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازع کے اثرات خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ ایک جانب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک سفارتی کوششوں کے ذریعے صورتحال کو مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کیلئے سرگرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ عالمی معیشت کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی میں براہ راست اضافہ ہوگا، جبکہ مرکزی بینک مہنگائی پر قابو پانے کیلئے شرح سود بڑھانے پر مجبور ہوسکتے ہیں، جس سے معاشی ترقی کی رفتار متاثر اور بڑے منصوبوں کی معاشی افادیت کم ہوسکتی ہے۔
سردار مسعود خان نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی صورتحال مزید خراب ہوئی تو اس کے اثرات خطے سے کہیں آگے تک جائیں گے۔ ان کے مطابق توانائی کی قیمتوں، مالی حالات اور جغرافیائی سیاسی بے یقینی کے باعث عالمی معاشی استحکام بھی سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم فوجی کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ان کے مطابق شدید حملوں اور سخت بیانات کے باوجود امریکا اور ایران دونوں مکمل جنگ سے بچنے اور بالآخر کسی باہمی سمجھوتے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتے دکھائی دیتے ہیں۔
سردار مسعود خان کے مطابق امریکا اب مسلسل فوجی کارروائی کے بجائے ایران کے خلاف معاشی ذرائع پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ انہوں نے ایرانی بینکاری نظام، برقی کرنسی اور ہوابازی کے شعبے پر مبینہ دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ وسیع تر حکمت عملی ایران کی معیشت کو کمزور کرنے اور اس کی سیاسی، فوجی اور نظریاتی قیادت پر دباؤ بڑھانے کیلئے اختیار کی جا رہی ہے۔