تازہ ترین

27 ستمبر کا احتجاج پُرامن ہوگا،: بیرسٹر گوہر

0

27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے پی ٹی آئی نے واضح کیا ہے کہ اس کا مقصد اسلام آباد پر چڑھائی یا اڈیالہ جیل کا دروازہ توڑنا نہیں بلکہ اپنے سیاسی اور قانونی حقوق کے لیے پُرامن آواز بلند کرنا ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ کارکنان پُرامن انداز میں اسلام آباد آئیں گے اور کسی سرکاری یا ریاستی ادارے سے تصادم نہیں چاہتے۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اچھی بات ہے کہ عدالتیں اب انہیں انصاف دینا شروع کریں۔ انہوں نے عدالتوں کے احکامات پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے 320 روز سے ملاقات نہیں ہوئی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد فتح کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے حقوق اور انصاف کے مطالبے کے لیے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق قافلے کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کریں گے اور احتجاج مکمل طور پر پُرامن رکھا جائے گا، جبکہ صوبے کے سرکاری وسائل کو استعمال نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا مقصد اڈیالہ جیل کے گیٹ توڑنا نہیں بلکہ اپنے مطالبات کو منوانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے اپنے مسائل کے حل کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا، پارلیمنٹ اور سینیٹ میں بھی آواز اٹھائی، لیکن اس کے باوجود ان کے مطابق کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو متعدد مقدمات اور سزاؤں کا سامنا ہے اور وہ طویل عرصے سے جیل میں ہیں، اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے ریاست سے اعتماد کی فضا بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرکے ان کا علاج کرایا جانا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے اور اس کی خواہش ہے کہ ملک ترقی کرے۔ ان کے مطابق 27 ستمبر کے احتجاج کا اعلان پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ اتحاد سے پہلے کیا گیا تھا اور پارٹی نے ماضی میں بھی پاکستان کی اہم سفارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ جب اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہوئے تو پی ٹی آئی نے اپنا جلسہ منسوخ کردیا تھا، جبکہ ایران اور چین کے وفود کی پاکستان آمد کے موقع پر بھی پارٹی نے اسمبلی میں تعاون کیا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے دوسری جانب سے مسائل کے حل اور پیش رفت کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.