اسلام آباد: پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں پیداوار بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) نے امریکی توانائی ٹیکنالوجی کمپنی Baker Hughes کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرلی ہے۔ اس تعاون کا مقصد جدید ٹیکنالوجی اور ماہرین کی خدمات کے ذریعے ملک کے پرانے تیل و گیس کے ذخائر سے پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
OGDCL کے ایک عہدیدار کے مطابق معاہدے کے تحت کمپنی کے موجودہ اور پختہ اثاثوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بحال اور زیادہ مؤثر بنایا جائے گا۔ ان اثاثوں میں 12 آئل فیلڈز جبکہ 6 گیس اور کنڈینسیٹ فیلڈز شامل ہیں، جو اس وقت بھی پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
Baker Hughes ان فیلڈز کی کارکردگی بہتر بنانے اور پیداوار کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے جدید تکنیک اور اپنی تکنیکی مہارت فراہم کرے گی۔ شراکت داری کے ذریعے موجودہ فیلڈز کی کارآمد مدت بڑھانے اور ان کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
اس وقت OGDCL روزانہ تقریباً 40 ہزار بیرل خام تیل، 815 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس اور 780 میٹرک ٹن ایل پی جی پیدا کررہی ہے۔ نئی شراکت داری سے موجودہ اثاثوں کی کارکردگی بہتر ہونے کے نتیجے میں ان اعداد و شمار میں اضافے کی توقع ہے۔
OGDCL کے ترجمان کے مطابق یہ تعاون پاکستان کی توانائی خودکفالت مضبوط بنانے اور ملک میں تیل و گیس کی مقامی فراہمی کو مزید محفوظ بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔
پاکستان میں امریکی ناظم الامور Natalie A. Baker نے بھی اس شراکت داری کو پاکستان اور امریکا کے درمیان توانائی کے شعبے میں جاری تعاون کا اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے مشترکہ مقاصد میں توانائی کا تحفظ اور پائیدار ترقی شامل ہیں۔