غزہ اور لبنان پر اقوام متحدہ کا ردعمل مایوس کن ہے: ایرانی صدر
بشکیک: ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے ردعمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مایوس کن قرار دیا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے ایس سی او پلس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پیزشکیان نے کہا کہ دنیا کو فوجی جارحیت، جنگی جرائم، دہشت گردی اور دیگر سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل ان معاملات سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ غزہ، لبنان اور ایران سے متعلق حالیہ صورتحال پر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزیوں کا الزام بھی عائد کیا۔
پیزشکیان نے کہا کہ تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہی بنیادی راستہ ہیں، تاہم مؤثر سفارت کاری کے لیے نیک نیتی، معاہدوں کی پاسداری اور طاقت کے استعمال سے گریز ضروری ہے۔
ایرانی صدر نے عالمی نظام میں مزید مؤثر کثیرالجہتی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ اور مؤثر بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کا مطلب ایک طاقت کی جگہ دوسری طاقت کی بالادستی قائم کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کی بنیاد خودمختار مساوات، عالمی قوانین اور مؤثر کثیرالجہتی نظام پر ہونی چاہیے۔
پیزشکیان نے ایس سی او پلس ممالک کو بھی عالمی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والا قرار دیا اور کہا کہ یہ ممالک زیادہ منصفانہ اور متوازن عالمی نظام کے قیام میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔