تازہ ترین

میری ٹائم سیکٹر میں اصلاحات، پاکستان عالمی تجارت کا مرکز بننے کی جانب گامزن

0

اسلام آباد- وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کا میری ٹائم سیکٹر تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے، جبکہ جدید بندرگاہوں اور وسیع سرمایہ کاری کے ذریعے ملک کو عالمی تجارت اور لاجسٹکس کا مرکز بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

پاکستان کی درآمدات و برآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ غیر ملکی شپنگ کمپنیوں کے ذریعے منتقل ہو رہا ہے۔ وزیراعظم کے میری ٹائم ریفارمز ایجنڈے کے تحت کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر بندرگاہوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

بڑے بحری جہازوں کی آمد کے لیے نیویگیشن چینلز کی گہرائی بڑھانے کے ساتھ ہاربر کرافٹس اور کارگو ہینڈلنگ کی سہولیات بھی جدید بنائی جا رہی ہیں۔

پورٹ کمیونٹی سسٹم، ویب بیسڈ کسٹمز، فیس لیس کسٹمز، ریئل ٹائم کنٹینر ٹریکنگ اور 24 گھنٹے کسٹمز آپریشنز کے ذریعے کارگو کلیئرنس کا عمل تیز اور شفاف بنایا جا رہا ہے۔ این ایل سی، کے پی ٹی پپری ریلوے لنک، بارج آپریشنز اور ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کے ذریعے بندرگاہوں کو صنعتوں، گوداموں اور اندرونِ ملک منڈیوں سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

شپنگ پالیسی 2026، ٹرانس شپمنٹ پالیسی، نجی شپنگ، جہاز سازی اور شپ ریپئر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ گوادر پورٹ پر وِٹول کے اشتراک سے پاکستان کا پہلا بین الاقوامی بنکرنگ آپریشن مکمل کیا گیا، جس کے تحت ایل این جی کیریئر کو 2,500 میٹرک ٹن مقامی میرین فیول فراہم کیا گیا۔

جہازوں کی ری سائیکلنگ، گڈانی ویسٹ مینجمنٹ، شرمپ فارمنگ، فشریز اور آبی زراعت کے ذریعے پاکستان کی بلیو اکانومی کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔

جدید بندرگاہیں، بہتر رابطہ کاری اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پاکستان کی بحری صلاحیت کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کی بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.