کریک ڈاؤن تیز جرائم میں ملوث افغان باشندوں کے خلاف دنیا بھر میں
جرمنی سمیت یورپ کے مختلف ممالک میں غیر قانونی اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افغان شہریوں کے خلاف کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں، جبکہ جرمنی نے مزید 23 افغان باشندوں کو چارٹر پرواز کے ذریعے کابل ڈی پورٹ کردیا ہے۔
جرمن حکام کے مطابق 25 اگست کو لیپزگ/ہالے ایئرپورٹ سے 23 افغان مردوں کو چارٹر طیارے کے ذریعے کابل بھیجا گیا۔ جرمن وزارت داخلہ کے مطابق ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں زیادہ تر ایسے افراد شامل تھے جو جرمنی میں سنگین جرائم کے مقدمات میں سزا یافتہ تھے۔
جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے اس پالیسی کو مزید آگے بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان واپس بھیجنے کا عمل صرف سزا یافتہ مجرموں یا خطرناک افراد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایسے دیگر افغان شہریوں کو بھی واپس بھیجا جائے گا جنہیں جرمنی چھوڑنے کا قانونی حکم دیا جا چکا ہے۔
جرمنی کی جانب سے حالیہ ڈی پورٹیشن ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں افغان شہریوں کی واپسی کے معاملے پر سیاسی اور انسانی حقوق کے حوالے سے بحث بھی جاری ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق جن افراد کو جرمنی میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں، انہیں ملک چھوڑنا ہوگا۔
اس سے قبل 28 جولائی 2026 کو بھی جرمنی نے 31 افغان شہریوں کو کابل روانہ کیا تھا۔ اس پرواز میں زیادہ تر سنگین جرائم میں ملوث افراد شامل تھے، تاہم جرمن وزیر داخلہ کے مطابق ایک ایسا شخص بھی شامل تھا جسے کسی جرم میں سزا نہیں ہوئی تھی، لیکن وہ جرمنی چھوڑنے کا پابند تھا۔
تازہ ترین 23 افراد کی واپسی کے بعد جرمنی کی افغان شہریوں سے متعلق ڈی پورٹیشن پالیسی مزید واضح ہوگئی ہے، جس میں جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ ساتھ دیگر قانونی طور پر واپسی کے پابند افراد کو بھی افغانستان بھیجنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔