تازہ ترین

اسلام آباد مفاہمت کی بنیاد پر امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں: چین

0

بیجنگ: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں چین نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں طے کیے گئے فریم ورک کو بنیاد بنایا جائے۔

یہ بات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ عباس عراقچی چین میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی اور عالمی صورتحال پر بات چیت کے لیے پہنچے تھے۔

وانگ یی نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مسلسل فوجی کارروائیاں کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ زیرِ التوا معاملات پر بامعنی مشاورت کی جائے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمت کی بنیاد پر مذاکراتی عمل بحال کیا جائے۔

چین اس سے قبل بھی امریکا اور ایران کے درمیان پہلے مرحلے کی مفاہمت کی حمایت کرچکا ہے اور اس عمل میں پاکستان کے رابطہ کاری اور ثالثی کے کردار کو اہم قرار دے چکا ہے۔

وانگ یی نے خدشہ ظاہر کیا کہ کشیدگی کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے اور یمن سمیت بحیرہ احمر کے خطے کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ چین کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا جاتا رہا ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جون میں طے پائی تھی، جس میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے، خودمختاری کے احترام اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت سے متعلق فریم ورک شامل ہے۔

دوسری جانب امریکا نے سعودی عرب کے حوالے سے بھی نیا سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو ملک کا سفر کرنے پر نظرثانی کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی حکام نے ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں، مسلح تنازع اور دہشت گردی سے منسلک خطرات کو اس کی وجوہات قرار دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے یمن کی سرحد سے متصل سعودی علاقے کو “Do Not Travel” زون قرار دیا ہے، جہاں یمن سے سرگرم مسلح گروہوں کی جانب سے دہشت گردی اور حملوں کے خطرات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں امریکی سرکاری ملازمین کو بھی یمن کی سرحد سے 20 میل کے اندر سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.