ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں بھارتی آئل ٹینکر روک لیا
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں عمان کوریڈور کے ذریعے گزرنے کی کوشش کرنے والے بھارتی آئل ٹینکر کو روک دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق واقعہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں پیش آیا، جہاں بحری آمدورفت تاحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آسکی۔
ایرانی حکام کے مطابق ایرانی جنگی بحری جہاز نے ’ہانا‘ نامی بھارتی آئل ٹینکر کو اس وقت روکا جب وہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایرانی بحری جہاز کی جانب سے ٹینکر کو پہلے وارننگ جاری کی گئی، جس کے بعد اسے مزید آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔
ایرانی دعوے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے کوئی بھی بحری جہاز گزر نہیں سکا، جس سے خطے میں موجود غیر یقینی صورتحال اور بحری آمدورفت کو درپیش مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایران اور عمان کے درمیان ایک عارضی بحری راستے کے قیام پر بات چیت جاری ہے۔ ’عمان کوریڈور‘ کے نام سے زیر غور اس انتظام سے عالمی سطح پر یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اہم سمندری گزرگاہ کے ذریعے تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل بتدریج بحال ہوسکتی ہے۔
تاہم بھارتی آئل ٹینکر کو روکے جانے کے واقعے نے اس راستے سے بحری آمدورفت کی بحالی پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ عالمی شپنگ کمپنیوں اور تیل بردار جہازوں کے لیے اب اہم معاملہ یہ ہے کہ آیا عمان کوریڈور کے ذریعے محفوظ اور مستقل بحری نقل و حرکت ممکن ہو سکے گی یا نہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ یہاں جہازوں کی نقل و حرکت میں کسی بھی بڑی رکاوٹ سے عالمی تیل کی قیمتوں اور توانائی کی سپلائی پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔
بھارتی آئل ٹینکر کو روکے جانے کے حوالے سے مزید تفصیلات اور متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔