تازہ ترین

نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 95 ہوگئیں، 341 غیر ملکی لاپتا

0

نیپال کے ہمالیائی علاقے میں چین کے زیر انتظام تبت کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 95 تک پہنچ گئی جبکہ 341 غیر ملکی شہریوں کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔

پولیس کے مطابق سیلاب سے نیپال کے ضلع راسووا کے متعدد دیہات اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے مقامات شدید متاثر ہوئے۔ اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے کئی علاقوں میں تباہی مچائی اور متعدد مقامات پر لوگوں اور املاک کے بہہ جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

علاقائی ماحولیاتی نگرانی کے ادارے کے مطابق سیلاب کی بنیادی وجہ تبت میں موجود ایک برفانی جھیل کے اچانک خالی ہونے کو قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں پانی کا شدید ریلا نیپال کی جانب آیا اور دریا کے اطراف کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپال کی وزارت سیاحت نے بتایا ہے کہ سیلاب کے بعد 341 غیر ملکی شہریوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سیپرو بیسی اور ٹموری بھی شامل ہیں، جہاں متعدد رہائشی اور تعمیراتی مقامات کو نقصان پہنچا۔

حکام نے بھوٹے کوشی دریا کے اطراف رہنے والے شہریوں کو انتہائی محتاط رہنے اور نشیبی علاقوں سے نکل کر محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق بعض دیہات اور تعمیراتی مقامات مکمل طور پر بہہ جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ جانی و مالی نقصان کی حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آسکیں۔

نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ نے کہا ہے کہ متاثرہ افراد کی مدد اور امدادی سرگرمیوں کے لیے حکومتی اداروں، سیکیورٹی اہلکاروں اور ریسکیو ٹیموں کو متحرک کردیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امداد اور تلاش کا عمل بھی جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور دریا کے قریب آبادیوں کو کسی بھی ممکنہ مزید سیلابی ریلے کے پیش نظر چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بھوٹے کوشی دریا کا آغاز تبت سے ہوتا ہے اور یہ نیپال میں داخل ہونے کے بعد ترشولی دریا سے جا ملتا ہے، جو آگے چل کر بھارت میں گنڈک دریا کے نام سے بہتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.