تازہ ترین

ایران سے کاروباری تعلقات ختم کریں، ورنہ پابندیوں کا سامنا ہوگا: امریکا

0

واشنگٹن- امریکا نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والے ممالک اور کاروباری اداروں کو خبردار کردیا ہے کہ تہران کے ساتھ لین دین جاری رکھنے کی صورت میں انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم واشنگٹن نے فی الحال ان پابندیوں کے فوری نفاذ سے گریز کیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف نئی معاشی مہم کو عالمی سطح پر ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف دباؤ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری اداروں اور حکومتوں کو ایران سے اپنے روابط محدود کرنے کے لیے کچھ وقت دیا جا رہا ہے، تاہم یہ مہلت زیادہ طویل نہیں ہوگی۔

بیسنٹ نے ان ممالک یا اداروں کے نام ظاہر نہیں کیے جنہیں مستقبل میں ثانوی پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ پابندیاں کب نافذ ہوں گی۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق 60 افراد، کمپنیوں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں، تاہم ایران کی تیل تجارت میں معاونت کے الزام میں چینی مالیاتی اداروں کو تازہ فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

امریکی وزیر خزانہ کے مطابق ایران سے کاروباری تعلق رکھنے والوں کو مزید کارروائی سے پہلے اپنے روابط کم کرنے کا موقع دیا جارہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ عمل تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے اور امریکا اپنے مؤقف پر سنجیدہ ہے۔

چین ایران سے خام تیل خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور امریکا نے چینی خریداری محدود کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ تاہم واشنگٹن نے اب تک چینی بینکوں پر براہ راست پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا ہے۔ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملک کے مالیاتی ادارے ایرانی تیل کو آمدنی میں تبدیل کرنے والے لین دین میں سہولت کاری کرتے پائے گئے تو کوئی ملک امریکی کارروائی سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔

تازہ امریکی اقدامات میں چین، متحدہ عرب امارات، سنگاپور اور فرانس سمیت کئی ممالک میں موجود کاروباری اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ثانوی پابندیوں کے ممکنہ دائرہ کار کو ایران کی معیشت کے پانچ شعبوں تک بڑھایا گیا ہے، جن میں ڈیجیٹل اثاثے، سونا، ٹیکنالوجی، ہوا بازی اور شپنگ شامل ہیں۔

بیسنٹ نے کہا کہ رواں ہفتے کے اختتام سے قبل کسی مالیاتی ادارے کے خلاف بڑی پابندیوں کا اعلان بھی متوقع ہے، تاہم محکمہ خزانہ نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

چینی بینکوں کے خلاف ممکنہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ستمبر کے آخر میں واشنگٹن میں ملاقات متوقع ہے۔ بڑے چینی مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاملات اور چینی نایاب معدنیات کی برآمدات سے متعلق موجودہ معاہدے میں پیش رفت متاثر ہوسکتی ہے۔

سابق امریکی پابندیوں کے رابطہ کار ڈینیئل فرائیڈ نے امریکی اعلان کو توقعات سے کم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل معاشی دباؤ دوبارہ فوجی محاذ آرائی سے بہتر راستہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق اس مہم کے نتائج سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے اور واشنگٹن کو سفارتی سطح پر لچک بھی دکھانا پڑ سکتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف دباؤ کی مہم کا بنیادی مقصد تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ امریکا کئی دہائیوں سے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرتا آرہا ہے، جن میں ایرانی تیل کی آمدنی، اسلحہ خریداری کے نیٹ ورکس اور پاسداران انقلاب سے منسلک کاروباری اداروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ایران نے پابندیوں سے بچنے کے لیے فرنٹ کمپنیوں، متبادل اداروں اور بحری جہازوں کی نئی رجسٹریشن سمیت مختلف طریقے اختیار کیے ہیں۔ حالیہ امریکی اقدامات میں ایران کے غیر اعلانیہ تیل کے بیڑے، شپنگ انشورنس کمپنیوں، اسلحہ خریداری کے نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل اثاثوں کے ایکسچینجز پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ٹرمپ کے 2025 میں دوسری مدت شروع کرنے کے بعد سے ایران سے متعلق ایک ہزار سے زائد افراد، بحری جہازوں اور طیاروں پر پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں۔

بیسنٹ نے ایرانی بینک ملی کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بیرون ملک تمام شاخیں بند کردی جانی چاہئیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.