شی جن پنگ نے فلسطین کا حل بتادیا، 4 نکاتی فارمولے کی تجویز
بیجنگ: فلسطین کے مسئلے کے جامع اور دیرپا حل کیلئے چین نے اپنا چار نکاتی فارمولا پیش کردیا، صدر شی جن پنگ نے سیاسی مذاکرات، دو ریاستی حل، فلسطینیوں کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو بنیادی اصول قرار دے دیا۔
چینی صدر نے یہ چار اصول اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم سے بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں ملاقات کے دوران پیش کیے، جو چین کے سرکاری دورے پر موجود ہیں۔
شی جن پنگ نے پہلے اصول میں سیاسی حل کو برقرار رکھنے اور دو ریاستی حل کو درست سمت قرار دیتے ہوئے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے آزاد فلسطینی ریاست کے جلد قیام کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
دوسرے اصول کے تحت انہوں نے ’’فلسطینیوں کی جانب سے فلسطین کی حکمرانی‘‘ کے اصول پر زور دیا۔ ان کے مطابق فلسطین تمام فلسطینیوں کا وطن ہے اور مغربی کنارے کی حکمرانی اور جنگ کے بعد غزہ کی تعمیر نو میں اسی اصول کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
تیسرے اصول میں انسانی بنیادوں پر شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی اور انسانی بحران کے خاتمے کیلئے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
چوتھے اصول میں انصاف اور عدل پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر فلسطین کے مسئلے کی بنیادی وجوہات سمیت تمام پہلوؤں کو حل کیا جائے اور جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں۔
ملاقات کے دوران شاہ عبداللہ دوم نے مشرق وسطیٰ کے معاملات پر چین کے مؤقف اور عرب ممالک کے جائز مقصد کی حمایت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کیلئے چین کا منصفانہ مؤقف انتہائی اہم ہے۔
شاہ عبداللہ دوم نے چین کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور کشیدگی میں کمی کیلئے فعال کردار جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا تاکہ مشرق وسطیٰ کے عوام کیلئے امن اور خوشحالی یقینی بنائی جاسکے۔